سوال: نجکاری کمیشن کو سر کاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کرنے کی بجائے ان کے حصص فروخت کرنے چاہئیں؟
جواب: سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کا مقصد بہترین طریقے سے اسی طرح حاصل کیا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ کو تبدیل کر کے اُس کی جگہ نجی شعبے کی پیشہ وارانہ انتظامیہ کو لایا جائے۔ یہ مقصد حصص کی فروخت سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ انتظامیہ کی تبدیلی ہی ہے جو مستعدی میں بہتری لا سکتی ہے او ر بہتر انتظام اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی کاروائیوں کو مزید بہتربنا سکتی ہے۔ بہت سے سرکاری ملکیتی ادارے سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے حصص کی تعین کردہ قدر(Book Value)ان حصص کی مارکیٹ میں قدر(Market Value)سے مطاقبت نہیں رکھتی۔ ان اداروں کے حصص مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں جو چھوٹے سرمایہ کاروں کو دوبار فائدہ پہنچائیں اور بالخصوص جن اداروں کا منافع یقینی ہو۔ چھوٹے حجم کے حصص کی فروخت بالعموم عوام کے مفاد میں نہیں ہوتی اس لیے ان کی فروخت کی سفارش نہیں کی جاتی کیونکہ ایسے حصص میں آسانی سے مختلف چالیں چلی جا سکتی ہیں اور بالآخر چھوٹے سرمایہ کاروں ہی نقصان پہنچتا ہے۔
سوال: نجکاری کمیشن کو سرکاری ملکیتی اداروں کی فروخت میں مقامی سرمایہ کاروں کو غیر ملکی کمپنیوں پر ترجیح دینی چاہیے؟
جواب: بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور پاکستان بھی ان ممالک میں پیش پیش ہے۔ایسی مخصوص صنعتوں کی تعداد بہت محدود ہے جو نجی شعبے کو نہیں دی جا سکتیں۔ ان صنعتوں میں اسلحہ اور گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، ریڈیو ایکٹو اشیاء سیکورٹی پرنٹنگ کرنسی اور سکّے ڈھالنا شامل ہے۔
سوال: نجکاری کمیشن کامیاب بولی دہندگان کو اس بات کا پابند کیوں نہیں کرتا کہ وہ حاصل کردہ یونٹوں کو جدید خطوط پر استوار کریں گے اور ان کو توسیع دیں گے؟
جواب: یہ تصور بہت پُرکشش اور مفید دکھائی دیتا ہے لیکن یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے یا اُسے توسیع دینے کے لیے ان متعلقہ معاملات کے بارے میں مناسب امکان پزیری اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے جو ایسی سرمایہ کاری کے منافع پر اثر انداز ہو سکتے ہوں مثلاً مستقبل کاٹیرف اور ٹیکسوں کی شرح وغیرہ۔ ایسی شرائط اور پابندیاں اُن سودا کاریوں میں شامل کی جا سکتی ہیں جہاں انتظامی کنٹرول کے ساتھ محدود حصص (مثلاً جھبیس فیصد) فروخت کیے گئے ہوں۔
سوال: نجکاری کے عمل میں شامل کسی یونٹ کی مالیت کی تشخیص کے مقصد سے کسی کمپنی کی مالیاتی معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟
جواب: کسی بھی ادارے کی انتظامیہ آڈٹ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق کمپنی کے کھاتے تیار کرتی ہے۔ کمپنی لاء اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کھاتوں کی جانچ پڑتال(آڈٹ) اور تصدیق چارٹرڈ اکاؤنٹس کی ایسی آزاد فرم سے کرائی جائے جو اکاؤنٹس کا آڈٹ اکاؤنٹنگ کے عالمی معیارات اور روایات کے مطابق کرے۔ کمپنی کے حصص یافتگان کے مفاد کے تحفظ کے لیے بھی اکاؤنٹس کا آڈٹ کرانا ضروری ہے۔ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کو دوسرے متعلقہ گروپس مثلاً بینک، قرضہ دہندگان اور سرمایہ کار وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ حصص یافتگان عام حالات میں ایک کمپنی کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے یا حصص یافتگان کو کوئی شک ہو تو آڈٹ شدہ اکاؤنٹس کی صحت کو جانچنے کے لیے انتظامیہ چارٹرڈ اکاؤنٹس کی ایک اور آزاد فرم(آڈیٹر) کو مقرر کر کستی ہے۔ عام حالات میں ایک اور آڈیٹر مقرر کرنے کی راویت موجود نہیں ہے۔
سوال: عوام بالعموم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی اثاثے بہت کم قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے؟
جواب: ہر سودا کاری میں اثاثوں کی مالیت کی تشخیص کی جاتی ہے بڑے اداروں کی مالیت جانچنے کے لیے مالیاتی حشیران(FAS)تشخیص کا کام انجام دیتے ہیں جبکہ دیگر سودوں کے لیے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ تشخیص کنندگان یہ کام کرتے ہیں۔ سرکاری شعبے کے ادروں کی مالیت کی تشخیص کے لیے درج ذیل چار قسم کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلا طریقہ مساوی قدر سے کم تر زرنقد کا بہاؤ(DISCOUNTED CASH FLOW)دوسرا طریقہ میزان(BALANCE SHEET)کا طریقہ، تیسراسودا کاری کو کئی گنا کرنے کا طریقہ (TRANSACTION MULTICLE METHOD) اور چوتھا اثاثوں کی مالیت کی تشخیص(ASSET VALUATION) کا طریقہ ہے۔ یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ پہلے تین طریقے کاروباری تشخیص کے طریقے کہلاتے ہیں اور یہ ان اداروں کی مالیت کی تشخیص کے لیے ہوتے ہیں جو اپنا کام جاری رکھے ہوتے ہوں۔ اثاثوں کی مالیت کی تشخیص والا چوتھا طریقہ اُس کمپنی کے اثاثوں کی مالیت کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کی تحلیل(لیکویڈیشن) کی جار ہی ہو۔ جب مالیت کی تشخیص کا مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے تو نجکاری کمیشن کے بورڈ کو پیش کاری(پریزنٹیشن)دی جاتی ہے جو کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو کم از کم قابل قبول قیمت زیر غور لانے کے متعلق سفارش کرتا ہے۔ کابینہ کمیٹی میں متعلقہ وزارت کی بھی نمائندگی موجود ہوتی ہے۔ اب یہ بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ نجکاری کے عمل سے گزر رہی کارپوریشن یا یونٹ کے نمائندے کو بھی تشخیص کو زیر غور لانے کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔
سوال: بعض معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ کمپنی کی ملکیتی صرف زمین ہی کی مالیت کی تشخیص کمپنی کی مالیت کی تشخیص سے زیادہ ہوتی ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جواب: یہ صرف تصور کرنے کا معاملہ ہے لیکن حد حقیقت ایسا نہیں ہے۔ کسی بھی کاروبار کے اثاثے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک بنیادی اثاثے(COREASSETS)ہوتے ہیں جو کاروبار کا حصّہ ہوتے ہیں۔ دوسرے غیر بنیادی(NONCORE ASSETS)اثاثے ہوتے ہیں اور انہیں بنیادی کاروائی(CORE OPERATION)کے حصے کے طور پر براہ راست استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس لیے انہیں اضافی (SURPLUS) اثاثوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بنیادی اثاثوں کی مالیت کی تشخیص کا اظہار کمپنیوں ’’کیش فلو‘‘ سے ہوتا ہے اس لیے انہیں الگ سے مالیت میں شمار نہیں کیا جاتا۔ غیر بنیادی اثاثوں کا اظہار ’’کیش فلو‘‘ سے نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کی مالیت کی تشخیص الگ سے ’’ڈسکاؤنٹیڈ کیش فلو‘‘ کے طریقے سے کی جاتی ہے۔ بعض سودوں میں غیر بنیادی اثاثوں کی مالیت کو شامل کرنے کا یہ طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ زمین ایک صوبائی معاملہ ہے اور کسی بھی کامیاب بولی دہندہ کے لیے یہ بات آسان نہیں ہے کہ وہ زرعی مقاصد کے لیے دی گئی زمین کے مقصد کو رہائش سکیم میں تبدیل کرائے۔ سرمایہ دار کسی صنعتی یونٹ کی مہنگی زمین حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ اس سے انہیں کوئی مالی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ عام طور سے صنعتیں یا تو ’’انڈسٹریل زونز‘‘ میں لگائی جاتی ہیں یا ایسے علاقوں میں لگائی جاتی ہیں جو شہروں سے کافی دُور ہوتی ہیں چونکہ صنعتی استعمال میں آنے والی زمین سے متعلقہ کمپنی کو کوئی منفعت حاصل نہیں ہوتی۔ جو صنعتی ادارے اس وقت فروخت کیے جا رہے ہیں یہ سب بہت عرصہ پہلے قائم ہوتے تھے اور جس جگہ پر یہ یونٹ قائم ہوتے تھے اُس زمین کی کوئی زیادہ قدر(مارکیٹ ویلو) نہیں تھی کیونکہ وہ شہری مراکز سے بہت زیادہ دُور واقع تھی۔نجکاری کمیشن اثاثوں کی مالیت کی تشخیص کے طریقے سے سمیت تمام طریقوں سے مالیت کی تشخیص کرناہے اور پھر اُس کا مناسب طریقے سے تقابل کیا جاتا ہے۔ ایسا صرف مخصوص حالات میں ہی ہوتا ہے کہ اثاثوں کی تشخیص مالیت کے طریقے سے کی گئی تشخیص دوسرے طریقوں کے استعمال سے کی جانے والی تشخیص سے زیادہ ہو۔
سوال: بولی دہندگان نجکاری کے لیے پیش کیے جانے والے اثاثوں کی مالیت کی تشخیص کس طرح کرتے ہیں؟
جواب: ہر بولی دہندہ ایک مالیاتی مشیر یا چارٹرڈ اکاؤنٹس کی کسی فرم کی خدمات تشخیص کندہ کے طور پر کرتا ہے تاکہ متعلقہ یونٹ کی مالیت کی تشخیص سے متعلقہ معاملات کے بارے میں تفصیلات حاصل کر سکے۔جن میں تکنیکی، قانونی اور انسانی وسائل سے متعلق امور شامل ہوتے ہیں۔ یہ کام دونوں ایک جیسا کرتے ہیں بلکہ زیادہ باریک بینی سے کیا جاتا ہے کیونکہ بولی دہندہ نہیں چاہے گا کہ زیادہ قیمت ادا کی جائے تا ہر ا میں یونٹ کی تجارتی شہرت(Good will)بھی شامل ہوتی ہے جس کا اظہار بولی کے مسابقانہ عمل کے ذریعے ہوتا ہے بولی دہندگان کمیٹی کی طرف سے ماضی میں ادا کیے گئے حصّہ منافع(DIVLDENDS)، پلانٹ اور مشینری کی تکنیکی حالت، ضروری تبدیلیوں اور ان کی ذمہ داربن سکنے والے قانونی چارہ جوئی کے مقدمات کا حساب لگاتے ہیں۔
سوال: بولی دہندگان کی پیشگی اہلیت(پری کوالیفکیشن) کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
جواب: اظہار دلچسپی کرنے والے تمام بولی دہندگان کو اہلیت کی دستاویزات کے بیان کی درخواست بھیجی جاتی ہے جس میں پیشگی اہلیت کے ساتھ ساتھ نااہلیت کا طریقہ کار بھی درج ہوتا ہے، ایک سودا کاری کمیٹی بولی دہندگان کی پیشگی اہلیت کی دستاویزات کا جائزہ لیتی ہے جس میں نجکاری بورڈ کا نمائندہ، متعلقہ ڈائریکٹر جنرل، متعلقہ وزارت اور وزارت خزانہ کے نمائندے اور متعلقہ کمپنی کا نمائندہ شامل ہوتا ہے۔ سٹیٹ بنک سے بولی دہندہ کی ساکھ کی قدروقیمت کی رپورٹ(CREDIT WORTHNESS REPORT)بھی حاصل کی جاتی ہے، پھر اصل قدر(Not worth)کا تعین کیا جاتاہے اور پھر اس کا تقابل کمپنی کے گزشتہ دو برسوں کے آڈٹ شدہ کھانوں کے مطلوبہ اعداد و شمار(Required Figures)کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
سوال: کیا یہ درست ہے کہ بعض سودے جلد بازی میں مکمل کیے گئے؟
جواب: سودا کاری کا وقت صرف اسی صورت میں کم کیا جا سکتا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے تعاون کریں اور یونٹ کی تعمیر نو وغیرہ کا کوئی معاملہ نہ ہو تاہم سودا کاری کا عمل کسی بھی قسم کے حالات میں بالکل مختصر نہیں ہوتا عام طور پر عام سودوں میں ان کی نجکاری ہونے سے لے کر کامیاب بولی دہندہ کو منتقلی تک آٹھ سے نو ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
سوال:پیشگی اہلیت کے حامل بولی دہندگان ’’کنسورشیم‘‘ کیسے تشکیل دیتے ہیں اور کیا طریقہ کار کے مطابق یہ چیز قابل قبول ہے؟
جواب: پیشگی اہلیت کے حامل ادارے بولی ہونے بیعانہ جمع کرانے سے پہلے کنسورشیم تشکیل دے سکتے ہیں۔ غیر ملکی اداروں کی صورت میں بھی اس چیز کی اجازت ہے لیکن ان کے لیے اپنے متعلقہ ملک میں قائم پاکستانی سفارتخانے سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔
اگر پیشگی اہلیت کا حامل کوئی ادارہ کنسورشیم تشکیل دینا چاہے تو اُسے بولی سے کم از کم ایک ماہ پہلے نجکاری کمیشن کو نوٹس دینا ہو گا۔ پیشگی اہلیت کے لیے یہی طریقہ کاراس نئے رکن پر بھی لاگو ہو گا جو جو کنسورشیم میں شامل ہونا چاہیے۔
سوال: بعض حرکتوں نے نجکاری کو اپنے اقتصادی پروگرام کا اہم ستون بنایا تھا اور بہت سے بڑے صنعتی اداروں کو مجوزہ نجکاری کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود نجکاری کا عمل سست روی کا شکار کیوں ہے اور اب تک کیوں صرف چند بڑی نجکاریاں ہی ہو سکی ہیں؟
جواب: نجکاری ترقی پذیر ممالک میں معیشت کو ترقی دینے کے تین بنیادی عناصر میں سے ایک ہے جبکہ باقی دو عناصر میں پابندیوں کو ہٹانا اور حکومتی معاشی قواعد کو نرم کرنا شامل ہیں۔ یہ تینوں عناصر باہم ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں تاہم بنیادی شہری سہولتوں جیسے بڑے یونٹوں کے لیے سرمایہ کاری کا مستحکم اور پُرکشش ماحول، قیمتوں کی مناسب پالیسیاں اور معاملات کو باقاعدہ بنانے کا مناسب ڈھانچہ موجود ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے متعلقہ وزارت، باقاعدگی کی نگرانی کرنے والے شخص یا ادارے اور نجکاری کے عمل سے گزرنے والے ادارے کی انتظامیہ کی طرف سے مدد بہت ضروری ہے اور اس کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے نجکاری کمیشن نے بہت سے اقدامات کیے ہیں تاکہ سازگار ماحول زیادہ بہتر ہے اور شفاقیت میں اضافہ ہو۔
سوال: نجکاری کے بعد اکثر اوقات ملازمین کی برطرفیاں شروع ہو جاتی ہیں کیا یہ عمل پاکستان میں بیروزگاری کے مسئلے کو سنگین نہیں بنا رہا؟
جواب: نجکاری پروگرام کے لیے مجموعی طور پر جو چیزیں درکار ہوتی ہیں ان میں نئی سرمایہ کاری لگانا، بہتر انتظامیہ لانا، ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا یا نئی ٹیکنالوجی لانا اور مسابقت میں بہتری پیدا کرنا شامل ہیں۔ ان اقدامات سے کمپنی کو زیادہ فنڈز دستیاب ہوتے ہیں اور اس کا نتیجہ ملازمت کے موقع میں اضافے کی صورت میں سامنے آنا ہے۔
بعض نجکاریوں سے ملازمت کے فوری مواقع جنم لیتے ہیں جس کے نتیجے میں پیداوار اور خدمات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے نجی شعبے کو دئیے جانے والے بعض اداروں میں نجکاری کے بعد ملازمتیں کم ہو سکتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں میں اکثراوقات اُس تعداد سے کہیں زیادہ ملازمین بھرتی کر لیے جاتے ہیں جتنی تعداد کمپنی کو مستعد انداز میں چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ یا تو ٹیکس گزار ان ملازمین کی تنخواہوں میں امدادی اقوام کی فراہمی ختم کر دیتے ہیں یا صارفین کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں ا س کے لیے ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔
فارغ کیے جانے والے کارکنوں کو ادارے سے علیحدگی پر پُرکشش مالی پیکج دئیے جاتے ہیں جس سے کوئی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے یا نئی ملازمت کی تیاری کے لیے تربیت حاصل کی جا سکتی ہے۔
سوال: یہ بات ہم کیسے جانتے ہیں کہ نجی شعبہ سرکاری شعبے سے زیادہ مستعدی دکھائے گا، نجی کمپنیاں بھی بالاآخر دیوالیہ ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات بند ہو جاتی ہیں، کیا بد عنوانی صرف سرکاری شعبے تک ہی محدود ہے۔
جواب: دُنیا بھر کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ نجی کمپنیاں سرکاری کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ نجی شعبے میں آزادانہ ترغیبات اور جوابدہی کا نتیجہ وسیع تر مطلوبہ نتائج کے حصول کی صورت میں نکلتا ہے۔ بعض اوقات بہتر کارکردگی کے حامل بعض نجی ادارے بھی دیوالیہ ہو جاتے ہیں اور بعض نجی اداروں کے حکام بھی بدعنوان ہو سکتے ہیں۔ بڑا فرق یہ ہے کہ اس صورت میں نقصان زیادہ تر ٹیکس گزاروں کی بجائے نجی حصص یافتگان کا ہی ہوتا ہے۔
سوال: نجکاری کمیشن نجکاری سے متعلق اپنے مقاصد کے حصول میں کافی پُرعزم نظر آتا ہے۔ اگر یہ مقاصد حاصل نہ ہو سکیں تو کیا ہو گا اور اس کا ذمہ دار اور جواب دہ کون ہو گا؟
جواب: بہتر سوال تو یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ایک سرکاری ادارے کی نجکاری نہ ہو تو (نقصان کا) ذمہ دار کون ہو گا؟ یوبی ایل کی نجکاری میں تاخیر پر کون جوابدہ ہے کیونکہ1998میں سے21بلین روپے کے شراکتی حصّے(Equity injection)کی ضرورت تھی اور2002تک خرید آٹھ بلین روپے سے اضافی شراکتی حصے کی ضرورت تھی۔ واپڈا اور کے ای ایس سی کے نقصانات میں اچانک اضافے اور بجلی کے تعطل کا کون ذمہ دار ہے جس کے نتیجے میں کاروباروں اور صنعتی سرگرمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی جس کے باعث عوام کو اپنے گھر چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نجکاری کے لیے کئے جانے والے اقدامات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن نجکاری نہ ہونے کے باعث ہونے والے بھاری اخراجات کی صورتحال اور نجکاری نہ کیے جانے کے متعلق کیے جانے والے فیصلے اکثر اوقات بہت ظالمانہ ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ انہیں بے عملیوں اور فیصلوں کے فقدان پر شاذونادر ہی کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔
سوال: نجکاری کمیشن کو ان اداروں کی فروخت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو نقصان میں جار ہے ہیں(تقریباً ایک سو بلین سالانہ) لیکن نظر یہ آتا ہے کہ اُس کی توجہ پی ٹی سی ایل، پی ایس او اور او جی ڈی سی ایل جیسے منافع بخش اداروں کی نجکاری پر ہے۔ ایسا کیوں ہے اور اس کا کیا جواز ہے؟
جواب: ہمارا طویل مدتی تصور ایسی حکومت ہے جو اچھے نظم و نسق اور معاملات کو باقاعدہ بنانے پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ایسی فضا پیداکرے جس کے باعث نجی شعبے کو ترغیبات حاصل ہوں تاکہ وہ موثر طور پر مال اور خدمات کی فراہمی کے لیے سرمایہ کاری کرے۔ تجارتی سرگرمیوں میں حکومت کی شراکت کو تیزی کے ساتھ کم کیا جانا چاہیے اس ضمن میں حکومت کو دو وسیع شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی پہلا یہ کہ نظم و نسق بہتر ہو اور سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزاء ماحول جنم لے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ بالخصوص بجلی، ٹیلی مواصلات تیل و گیس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں معاملات کی باقاعدگی کے ایک موثر ڈھانچے کے ذریعے عوامی مفاد کا تحفظ کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ایسا مناسب مادی اور ٹیکنالوجی کا ڈھانچہ تخلیق کرنے میں مدد دی جائے جو پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح نجکاری ایک اصولی نظریے کا معاملہ ہے کسی مصلحت پر مبنی معاملہ نہیں۔
حکومت جب نجکاری پروگرام کا خاکہ تیار کرتی ہے تو وہ مخصوص سودوں کے درمیان یہ فرق نہیں رکھتی کہ کونسے مخصوص سودے نقصان دینے والے ہیں اور کونسے فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ مندرجہ بالا تمام باتوں کے باوجود یہ کہنا غلط ہے کہ نجکاری پروگرام میں توجہ منافع بخش یونٹوں کی طرف ہے، نقصان میں جانے والے یونٹوں کی نجکاری کی طرف نہیں کے ای ایس سی سمیت ایسے بہت سے ایسے یونٹ ہیں جو خسارے میں جا رہے تھے ااور انہیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے حکومتی امدادی اقوام اور معاونت پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔(اور ان کی نجکاری کی گئی)
یہ بھی ہے کہ نجکاری پروگرام میں شامل بعض کمپنیاں فی الوقت منافع بخش ہوں لیکن یہ بات حیران کن نہیں کیونکہ ایک تو وہ اجارہ داری کے ماحول میں کام کر رہی ہیں اور یا وہ پُرکشش قیمتوں کے دور میں کام کر رہی ہیں۔ درحقیقت ان میں سے بعض کمپنیاں صارفین کی طلب کے مطابق مناسب قیمت پر خدمات کی فراہمی میں ناکام ہو گئی ہیں یا پیداوار اور منافع کی سطح کے حوالے سے اپنی استعداد کے مطابق کام کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ جب کسی یونٹ کی نجکاری انتظامی کنٹرول کی منتقلی اور باقاعدگی کے بہترین عمل کے ساتھ ہو تو اس سے یہ ماحول تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی طریقے سے ان مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے جو بیوروکر یسی کی طرف سے اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔اسی طریقے سے پابندیاں ہلانے اور مسابقت میں تیزی لائی جا سکتی ہے، دوہری اعانتوں کو ختم کیا جا سکتا ہے نئی انتظامیہ اور سرمایہ لایا جا سکتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ اسی طریقے سے نقصانات کم کر کے اور زائد منافع کے باعث ٹیکسوں کو فروغ دے کہ عوامی سرمائے کی دستیابی کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
نجکاری کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو یہ ٹھوں پیغام ملے گا کہ حکومت اقتصادی ترقی اور مفید روزگار پیدا کرنے میں نجی شعبے کے کردار پر یقین رکھتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار بالخصوص،نجکاری کو حکومت کی اصلاحاتی پروگرام میں سنجیدگی کی اصولی بنیاد تصور کرتے ہیں۔ ایک بہتر کاروباری ماحول نئی سرمایہ کاری لائے گااور سرمائے کی آمد کے حوالے سے حالیہ برسوں میں یہ چیز دیکھی گئی ہے بہتر معیار اور حجم کا مال اورخدمات فراہم کرنے والے مستعد کاروباری ادارے غیر مستعد اور نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کے مقابلے میں زیادہ احسن طریقے سے ملک کی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
سوال: حکومت کے پاس نجکاری پروگرام کی منطقی دلیل کیا ہے؟
جواب: ہمارا طویل مدتی تصور ایک ایسی حکومت ہے جو بہتر نظم ونسق اور معاملات کو باقاعدہ بنانے پر توجہ مرکوزرکھتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کرے جس کے باعث نجی شعبے کو ترغیبات حاصل ہوں تاکہ وہ موثر طور پر مال اور خدمات کی فراہمی کے لیے سرمایہ کاری کرے۔ اس طرح روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جو غربت میں کمی کے لیے لازمی چیز ہے۔ مختصراً حکومت سمجھی ہے کہ کاروبار سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نجکاری کمیشن کاروبار کو درست ہاتھوں میں دینے میں مدد دتیا ہے تاکہ حکومت آزادانہ طریقے سے امن و امان یقینی بنانے اور صارفین اور ٹیکس گز اروں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرتے ہوئے ایسا سازگار ڈھانچہ بناتے جو سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہو۔
توقع ہے کہ نجکاری پروگرام انفرادی بچتوں کو سرمایہ کاری کے ذریعے کاروبار میں لانے، نجکاری شدہ اثاثوں کی ملکیت میں توسیع دینے اور اعانتوں کا بوجھ کم کرنے کے ذریعے اقتصادی ترقی کا عمل مزید تیز کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
حکومت کی بنیادی توجہ اس امر پر مرکوز ہونی چاہیے کہ وہ سرمایہ کاری اور اقتصادی نمو کے لیے بہتر نظم و نسق فراہم کرے اور سازگار فضا ہموار کرے۔ اس سلسلے میں حکومت کو تمام سرمایہ کاروں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ پالیسی کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانا ہو گا اور لازمی مالیاتی اور معاملات کی باقاعدگی کا ڈطانچہ قائم کرنا ہو گا تاکہ سرمایہ کاروں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
سوال: بڑے اداروں کی نجکاری میں زیادہ وقت کیوں صرف ہوتا ہے؟
جواب: نجکاری ایک پیچیدہ اوور محنت طلب اصلاحاتی عمل ہے جس میں ہر مرحلے پر بے انتہا شفافیت اور اعلی درجے کی انتظامی، مالیاتی اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں نجکاری کے عمل کا انحصار بہت سے بیرونی عوامل پر بھی ہوتا ہے جن میں مستحکم علاقائی صورتحال، عالمی منڈی کے رجحانات اور سرمایہ کار کے مفادات وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں نجکاری پروگرام کی توجہ سیدھے سادھے صنعتی سودوں کی نجکاری تبدیل ہو کر ان شعبوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے جن میں خدمات کے انتظامی کنٹرول کی منتقلی شامل ہے ان میں بنکاری، ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولتیں شامل ہیں۔ اس میں بعض حساس نوعیت کے فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں جن میں قیمتوں کا تعین، تعمیر نو اور ملازمین کی برطرفی بھی شامل ہیں۔ اس طرح سازگارو ماحول کو بہتر بنانے اور باقاعدہ نگرانی کے ڈھانچے کے قیام اور استحکام کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔
نجکاری کمیشن کی اگرچہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ نجکاری کے عمل کے دورانیے کو مختصر کیا جائے لیکن اسے نجکاری سے قبل تمام قومی اور دیرپا مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملک کا سیاسی ماحول اور خطے کی صورتحال نجکاری کے لیے سازگار ہے؟
جواب: نجکاری حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصّہ ہے اس لیے اس پر پروگرام میں تسلسل اور استحکام ہونا چاہیے۔ نجکاری کا عمل متحرک اور لچکدار ہے اور یہ کسی بھی ہنگامی حالت سے نبردآزما ہو سکتا ہے اور ماضی قریب میں اس کا مظاہرہ کیا بھی گیا ہے۔ بازار حصص کی حوصلہ افزاء کارکردگی اور حکومت کی بہتر مالی اور مالیاتی حالت نجکاری کے عمل کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے
سوال: پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے کون سے مخصوص اقدامات درکار ہیں؟
جواب: پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے جو مخصوص اقدامات درکار ہیں ان میں پالیسیوں کا تسلسل اور استحکام، سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اور اصلاحات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کا قابل مظاہرہ عزم شامل ہیں۔
سوال: سپیشل وہیکل کمپنی کیا چیز ہے۔ اس کا مقصد کیا ہے اور یہ کب تشکیل پاتی ہے؟
جواب: ایک عام طریقہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں جب ان کمپنیوں کے حصص حاصل کرتی ہیں جو دیگر ممالک میں واقع ہوں(یعنی ان کے اپنے ملک میں واقع نہ ہوں) تو ہو یہ حصص ’’سپیشل پرپزوہیکلز‘‘(SPV)’’باہولڈنگ کمپنیوں‘‘(Hold Cos) کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ یہ سہولت کار کمپنیاں ٹیکس کے حوالے سے غیر جانبدار قانونی دائرے میں قائم کی جاتی ہیں۔اس ڈھانچے پر منصفانہ طور پرعمل ہو رہا ہے اور یہ طریقہ عالمی طور پرقابل قبول ہے۔ ان سہولت کار کمپنیوں (SPVs)کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے کے مقاصد درج ذیل ہیں: غیر ملکی کمپنیاں عام طور پر ان سہولت کار کمپنیوں (SPVs)میں اپنی سرمایہ کاری کو اکٹھا کرتی ہیں اور اس چیز کا انحصار سرمایہ کاریوں کی نوعیت اور مقام پر ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر تمام ایشیائی سرمایہ کاریاں ایکSPVکے ذریعے اور تمام یورپی سرمایہ کاریاں ایک اورSPVکے ذریعے کی جائیں۔ ایسی سہولت کار کمپنی کے ذریعے سرما یہ کاری کا مقصد بیرون ملک سرمایہ کاریوں کی انتظامیہ کو سہولت حاصل ہو سکے۔اس طرح مستقبل میں شراکتی تشکیل نو کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ یہ سہولت کار کمپنیاں اُس صورت میں ایک سرمایہ کاری کے انتظام میں مدد دیتی ہیں جب دویا زیادہ بین الاقوامی سرمایہ کار شراکت دار بن کر یا ایک کنسور شیم کے ارکان کی حیثیت سے سرمایہ کاری کر رہے ہوں ایک مخصوص سہولت کار کمپنی کنسور شیم کے ارکان کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ بیرون ملک کی جانے والی سرمایہ کاری کا متحد ہو کر انتظام چلائیں۔ ان ڈھانچوں کے استعمال کامقصد ان کے قانونی دائرے میں آنے والے منافعوں، بافتوں اور حصہ منافع کی ترسیلات زر پر ٹیکسوں کو کم کرنا ہے۔چونکہ یہ سہولت کار کمپنیاں ٹیکسوں سے پاک قانونی دائرے میں رہ کر کام کرتی ہیں اس لیے سرمایہ کار کمپنیاں قابل ہو جاتی ہیں کہ وہ سرمایہ کار کمپنی کی طرف سے ترسیل کیے جانے والے منافعوں، حصہ منافع اور پافتوں پر دوہرے ٹیکسوں کے نفاذ سے بچ سکیں۔ نجکاری کمیشن غیر ملکی بولی دہندگان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ان سہولت کار کمپنیوں (SPVs)کے ذریعے حصص حاصل کریں لیکن ان کمپنیوں کے ساتھ اشتراک اور ان کی مکمل شناخت فراہم کرنا ہو گی۔ یہ دستیاویزات بولی ہونے کے بعد مگرحصص کی خریداری کے معاہدے(SPA)پر دستخط ہونے سے پہلے فراہم کرنا ہوں گی تاہم سہولت کار کمپنیوں کے ذریے حصص کے حصول کے لیے بولی کی دستیاویزات(جو کہ بولی کے بعد دینا ہو ں گی)ہر چند شرائط لاگو ہوتی ہیں جو یہ ہیں: ان سہولت کار کمپنیوں کے ساتھ ساتھ پیشگی اہلیت کی حامل پارٹیوں یا بولی دہندگان کو بھی ان دستاویزات پر دستخط کرنا ہوں گے۔ کامیاب بولی کے بعد حصص اپنے پاس رکھنے کے عرصہ(Holding Period)کے دوران عائد ہونے والی پابندیوں یا ایسے کسی عرصہ کے بعد(Post Holding Period)عائد ہونے والی پابندیوں کا اطلاق متعلقہ سہولت کار کمپنیوں (SPVs)پر بھی ہو گا۔مثال کے طور پر اس عرصہ(Holding Period)کے دوران بولی دہندگان پر حصص کی منتقلی کے بارے میں جو پابندیاں عائد ہوں گی ان کا اطلاق ان سہولت کار کمپنیوں پر بھی ہو گا۔ پیشگی اہلیت کی حامل کمپنیاں یا بولی دہندگان سہولت کار کمپنیوں پر عائدہونے والی ذمہ داریوں کے بارے میں ضمانت بھی فراہم کریں گے یعنی نجکاری کمشنز کی حتمی استعانت(Ultimate Recouse)مخص سہولت کار کمپنیوں کے لی ہی نہیں بلکہ ان بولی دہندگان کے لیے ہو گی۔ یہ ایک عالمی طور پر مسلّمہ رواج ہے کہ ایک امکانی بولی دہندہ کو کامیاب بولی دہندہ قرار دئیے جانے کے بعد ہی سہولت کار کمپنیاں تشکیل دی جاتی ہیں لیکن سہولت کار کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری لانے کا اشارہ پیشگی ہی دے دیا جاتا ہے۔
سوال: کیا سپیشل وہیکل کمپنی(سہولت کار کمپنی) کی تشکیل کا مقصد ٹیکسوں سے بچنا ہوتا ہے؟
جواب: پاکستان کا قانون پاکستان میں کاروبار کی خواہش مند کسی غیر ملکی کمپنی کو ایک کنسور شیم کا حصّہ بننے سے نہیں روکتا۔ خصوصی سہولت کارکمپنی کی تشکیل حکومت کو ٹیکس دینے کی ذمہ داری سے اعتراض یا ٹیکس سے بچنا نہیں ہوتا۔ یہ کمپنی پاکستانی ٹیکس کی ادائیگی سے بھی اعتراض نہیں کرتی۔ اس کا مقصد صرف دوہرے ٹیکسوں سے بچنا ہے مثلاً غیر ملکی حکومتوں کو ٹیکسوں کی ادائیگی۔ دوہرے ٹیکس کے واقعات سے بچنے کے لیے خصوصی سہولت کار کمپنیوں کی تشکیل پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت بالکل قانونی عمل ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اختیار صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہی حاصل ہے کہ وہ ٹیکسوں کے معاملے میں کسی کو جھوٹ یا معافی دے۔