سردار احمد نوازسکھیرا
سیکرٹری،  نجکاری ڈویژن / نجکاری کمیشن

وزارت خزانہ ، مال، اقتصادی امور، شماریات اورنجکاری

سردار احمدنواز سکھیرا پاکستان ایڈمنسٹریٹوسروس کے افسر ہیں اور8اپریل2014کو انہوں نے نجکاری ڈویژن میں شمولیت اختیارکی۔ وہ1985ء میں پاکستان سول سروس میں شامل ہونے اور اپنے عرصہ ملازمت کے دوران سیکریٹریٹ، فیلڈ اور سٹاف کے مختلف عہدوں پر کام کیا۔نجکا ری ڈویژن میں شمولیت سے پہلے وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے ادارے سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے، فیلڈکی ذمہ داریوں کے دوران وہ1995-96میں ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور پھر2000-01میں شیخو پورہ کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔2001میں ہی ضلع شیخوپورہ کے ڈی سی او کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ سٹاف کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے عرصہ میں وہ2008سے2011تک گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری1994-95میں وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سٹاف آفیسر اور2011-12میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے فیکلٹی ممبر رہے۔ حکومت پنجاب کے سیکریٹریٹ میں وہ2005سے2008تک سیکرٹری عمل درآمد و رابطہ رہے۔
اس سے قبل2003سے2005تک ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ(بجٹ و ترقیات)1996-97میں چیف ایکسٹرنل کیپٹل اسٹنس رہے اس کے علاوہ وہ1998-99میں ایشیائی ترقیاتی بنک کے مالی تعاون سے چلنے والے ٹیکنیکل ایجوکیشن پراجیکٹ ڈائریکٹر بھی رہے۔

انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے1994میں ایم پی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ1993میں ولیمیز کالج سے ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مضمون میں ماسٹر آف آرٹس کیا۔ انہوں نے1983میں لندن سکول آف اکنامکس سے بھی بیچلر آف سائنس(آنرز) کی ڈگری اکنامکس کے مضمون میں صنعت و تجارت کے تخصّص کے ساتھ حاصل کی۔ قبل ازیں انہوں نے ایجی سن کالج لاہور سے او اور اے لیول کے امتحانات پاس کیے۔

انہوں نے ہارورڈیونیورسٹی میں سرمایہ کاری کی تشخیص اور انتظام، منڈی کی معیشت کا ڈھانچہ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے موضوع پر ہونے والے ایگزیکٹو کورسز میں اور ڈیوک یونیورسٹی میں سرکاری شعبے میں میزانیہ سازی اور مالیاتی انتظام کے موضوع پر ہونے والے ایگزیکٹو کورس میں بھی شرکت کی ہے۔

وہ1993-94میں ہاورڈیونیورسٹی میں انڈرگریجویٹ سطح پر معاشیات بھی پڑھاتے رہے۔2004میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے جریدے میں ان کا ایک تحقیقی مقالہ شائع ہوا جس کا عنوان ’’کالا باغ ڈیم۔متنازع امور اور الزام دہی کے طریقے‘‘ شائع ہوا۔ ولیمز کالج میں ان کا ماسٹرزکا مقالہ بعنوان’’امن کا فائدہ اور سماجی شعبے کی ترقی‘‘تھا جوپاکستان اور بھارت کے تناظر میں ایک تحقیقی مطالعہ تھا۔