فنانس اور اکاؤنٹس کے فرائض کار

فنانس اور اکاؤنٹس کے فرائض کار نجکاری کمیشن آرڈینس2000کے ضوابط کے مطابق ادا کیے جاتے ہیں۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی تمام رقوم ایک منفرد اور علیحدہ کھاتے میں جمع کرائی جاتی ہیں جنھیں جسے، نجکاری فنڈ کا کھاتہ(پرائیوٹائزیشن فنڈ اکاؤنٹ) کہا جاتا ہے۔ نجکاری کے سودوں سے متعلقہ اخراجات اسی کھاتے سے حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں کمیشن کے کھاتے کے ذریعے خرچ کیا جاتا ہے۔ کمیشن کا کھاتہ(اکاؤنٹ) کھولنے کا مقصد سودا کاریوں سے متعلقہ اخراجات کی ادائیگیوں کے لیے نجکاری فنڈ سے اضافی/ سپلیمنٹری رقوم حاصل کرنا اور کمیشن کے دفتری اخراجات کو چلانے کے لیے بجٹ سے امدادی رقم(Budgetary Grant)بھی حاصل کرنا ہے۔ نجکاری سے متعلقہ اخراجات نکال کر فروخت سے حاصل کردہ کل رقم(Net Sale Proceeds)وفاقی حکومت کو یا ایسی رقوم کے قانونی طور پر حق دار(entitled)اداروں کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ نجکاری کمیشن آرڈینس کی رُو سے وفاقی حکومت کو نجکاری سے حاصل ہونے والی کل رقم درج ذیل طریقوں سے خرچ کی جاتی ہے۔

(الف) 90فیصد رقم وفاقی حکومت کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے۔

(ب) 10فیصد رقم غربت کے خاتمے کے پروگراموں کے لیے۔

نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم، آرڈینس اور نجکاری کمیشن کے(اختیارات کی منتقلی) کے ریگولیشن محبریہ2002کے قواعد کے تحت کی جاتی ہے، جس کی رُو سے آرڈینس کے دائرے میں رہتے ہوئے، کمیشن کے روزمرہ امور چلانے کے لیے انتظامی اور مالیاتی اختیارات نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور سیکریٹری کو منتقل کیے گئے ہیں۔
کمیشن کے کھاتوں کا سلانہ آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے۔ نجکاری کمیشن آرڈینس کے تقاضے کے مطابق اور آرڈینس کے قواعد کی روشنی میں مالیاتی گوشوارے تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں پاکستان میں نافذ العمل اکاؤنٹنگ کے معیارات کے مطابق منظور کیے جاتے ہیں۔ ان گوشواروں کا بھی آڈٹ کرایا جاتا ہے جو چارٹرڈ آؤکانٹس کی فرم کے ذریعے کرایا جاتا ہے۔30جون2013کو اختتام پذیر ہونے والے سال کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے اور آڈیئرز کی رپورٹ نجکاری کمیشن بورڈ کے سامنے پیش کی گئی جس کی منظوری 8 مئی جون 2015کو ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔