اب تک ہونے والی پیش رفت

نجکاری کے لیے کوششیں 22جنوری1991کو نجکاری کمیشن کی تشکیل کے فوراً بعد شروع ہو گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر نجکاری کمیشن کا دائرہ کار اگرچہ صنعتی سودا کاریوں تک محدود تھا لیکن1993کے بعد سے اسی کے دائرہ کار میں توانائی، تیل و گیس، ٹرانسپورٹ(ہوا بازی، ریل، بندرگاہیں اور جہاز رانی) ٹیلی مواصلات، بینکاری اور بیمہ کاری کے شعبے بھی شامل ہو گئے۔ جنوری1991سے ستمبر2015 کے دوران نجکاری کمیشن نے648.954ارب مالیت کے172سودے مکمل کیے ہیں۔
حکومت پاکستان نے اب تک648.954ارب روپے کی مجموعی قیمت فروخت پر172سودے مکمل کیے ہیں یا ان کی منظوری دی ہے۔ نجکاری کے مختلف درائع سے ہونے والی آمدن کو علامت نمبر(1)میں دکھایا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کا66فیصد حصہ وفاقی حکومت کو منتقل کر دیا گیا،28فیصد حصہ ان قانونی اداروں (Legal antities)کو منتقل کر دیا گیا جن کے حصص فروخت کیے گئے تھے۔4فیصد حصہ تعمیر نو کے اخراجات کے لیے مختص کیا گیا جن کا زیادہ تر تعلق گولڈن ہینڈ شیک اور بحالی کے ساتھ تھا جبکہ باقی حصہ2فیصد نجکاری کمیشن کے نجکاری سے متعلقہ اخراجات کے لیے استعمال کیا گیا۔(دیکھیں علامت نمبر2)

 

 

 

 

 

 

تقریباً تمام سودے مقامی کرانسی میں طے پائے جبکہ کوٹ ادو پاور پلانٹ(کیپکو)، تیل و گیس کے سودے، حبیب کریڈٹ اینڈ ایکسچینج بینک یونائیٹڈ لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ کے ای ایس سی، او جی ڈی سی ایل اور یو بی ایل کے سودوں میں وصول ہونے والی رقم کا66فیصد حصہ غیر ملکی زرمبادلہ کی صورت میں وصول کیا گیا۔ نیچے دئیے گئے جدول نمبر2میں مختلف شعبوں میں نجکاری کے سودوں کی تعداد اور ان سودوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو دکھایا گیا ہے۔

سے اپریل 2015تک u1991uu

ہونے والی آمدن

رقم ملین میں

سودوں کی تعداد

 شعبہ

41,023

7

بینکاری

303،494

26

سرمائے کی منڈی کے ذریعے سودے

54,255.3

15

توانائی

187,024

4

ٹیلی کام

1,102

   7

ٓآٹو موبائل

16,177

17

سیمنٹ

1,643

16

 کیمیکل

182

7

انجینئرنگ

40،281

7

کھاد

842

24

گھی ملز

236

8

چاول

91

15

روٹی پلانٹس

370

4

ٹیکسٹائل

270

5

اخبارات

1،805

4

سیاحت

159

6

دیگر

648،954

172

کُل تعداد اور رقم