اسحاق ڈار
وزیرِ خزانہ و نجکاری

تعلیمی پس منظر:
پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی کام (آنرز) (گولڈ میڈلسٹ) ہیں اور انسٹی ٹیویٹ آف چارٹر رڈ اکاؤنٹس لندن، ویلز سے ایف سی اے کر رکھا ہے۔
مزید معلومات
مسٹر محمد اسحاق ڈار ایک نمایاں مالیاتی و اقتصادی ماہر ہیں اور پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے سنئیر راہنما ہیں۔ سینٹر اسحاق ڈار ایک متاثرکن سوانحی تاعرف کے حامل ہیں جو کہ بے نظیر کامیابیوں سے مزین ہے اور۔۔۔۔۔۔ انسانی کاوشوں کے مختلف محاذوں پر شاندار خدمات اور فتوحات پر محیط ہے۔
قومی مفادات، جمہوریت، قانون کی حکمرانی پیشے اور انسان دوست خدمات کے ساتھ ان کے بھر پور عزم اور اِس کے ساتھ ساتھ مالیات، حقیقت، تجارت اور صنعت کے کامل علم ہی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنے کئیریر کے دوران بہت سے اعزازات اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تعلیمی محاذ پر دیکھا جائے تو سینیٹر اسحاق ڈار معروف تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے جن میں اِن کی مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور (موجودہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی) اور پہلے کالج آف کامرس پنجاب یونیورسٹی لاہور بھی شامل ہیں۔پنجاب یونیورسٹی میں انہیں بی کام (آنرز) میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر دو طلائی تمغے (گولڈ میڈلز) اور سندِ امتیاز (رول آف آنر) عطا کیے گئے۔
سینیٹر اسحاق ڈار اور اپنے قابل ِ رشک تعلیمی ریکارڈ سے لے کر پیشہ وارانہ فراست تک اور اپنے بے مثال سیاسی کیرئیر سے لے کر مختلف اہم وزارتیں سنبھالنے تک ایک ممتاز مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں اور انہیں وسیع طور پر ایک ٹیکنو کریٹ سیا ستدان تسلیم کیا جاتا ہے۔
سینٹیر اسحاق ڈا رکی پیشہ وارانہ مہارت اور مالیات، اقتصادیات و معاشرت، تجارت سرمایہ کاری اور صنعت کے پیچیدہ حاصلا ت کا قابل قدر اور انسان کی مخصوص صلاحیتیں ہیں جس کے باعث انہیں نہ صرف وسیع تر پذیرائی حاصل ہوئی ہے بلکہ اس نے انہیں ایک مکمل پیشہ ور (پروفیشنل) کی حیثیت سے اعلیٰ قیام حاصل کرنے میں بھی مدد دی ہے۔ انہیں آڈٹ کے پیشے، مالیاتی مشورہ بینی، اِنتظامی مشاورت، کاروبار، تجارت اور صنعت کے شعبوں میں ملک کے اندر اور باہر اور سرکاری انور نجی دوں شعبوں میں بیالیس سالہ تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیئرر کا آغاز 1970میں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹر ڈ اکاؤنٹنٹس اِن انگلینڈ اینڈ ویلز(ICAEW) میں زیرِ تربیت چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کیا۔ وہ 1974میں KAFWاو رپھر1975میں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان(ICAP)کے ایسوسی ایٹ ممبر(ACA)بنے۔ انہیں تعلیم کی تکمیل کے بعد کے پیشہ وارانہ تجربے کے بعد 1980میں CAEWاور1984میں iCAPکی طرف سے فیلو شپ (FCA)دے دی گئی۔ بعد ازاں وہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس کاؤنٹنٹس آف پاکستان کے فیلو ممبر(FPA)بن گئے۔ حال ہی میں جنوری 2012میں ICAEWکی طرف سے انہیں تاحیات رکنیت عطا کر دی گئی۔
1974سے1976تک لندن میں برٹش ٹیکسٹائل گروپ ڈائریکٹر فنانس کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد سینیٹر اسحاق ڈار نے1976میں لیبیا کی حکومت کی ایک پیشکش قبول کر لی اور طرابلس میں آڈیٹر جنرل ڈیپارٹمنٹ میں سینٹر آڈیٹر تعنیات ہوئے۔
دسمبر1977ء میں پاکستان واپس پر وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرم میں ’’شامل پارٹنر بن گئے۔ اِس فرم کے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں دفاتر تھے اور یہ فرم سرکاری شعبے اور سرکاری فہرست میں شامل کمپنیوں پر مشتمل اپنے صارفین کو ٹیکس کارپوریٹ اور مالیاتی نظام اور آڈٹ اور کنسلٹینسی کے امور نمٹاتی تھی۔ وہ 1980میں ایک کثیر القومی تعمیراتی کمپنی میں مالیاتی مشیر بن گئے۔ جس کے منصوبوں پر پاکستان، لیبیا، ایران، عراق اور سعودی عرب میں کام جاری تھا۔
سنییٹر اسحاق ڈار نے1989سے1997تک (وزارت کا عرصہ چھوڑ کر پاکسان میں سرکاری فہرست میں شامل ایک غیر بنکاری مالایتی ادارے میں چیف ایگزیکٹو /یا ڈائریکٹر کی حیثیت میں کام کیا۔
وہ فروری2000ء سے مارچ 2008تک متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان کے ایک رکن کے مالیاتی مشیر رہے۔ اِس کے علاوہ وہ نادم تحری عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور اسلامی ترقیاتی بنک کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار گذشتہ بیس برسوں میں پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور اِس مرتبہ وہ پانچویں مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ وہ 1993سے1996تک اور پھر1997سے1999تک دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے اور اِ س کے بعد مسلسل تین مرتبہ سینٹ کے منتخب رکن رہے ہیں۔ انہو ں نے سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلمیانی لیڈر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔ سینیٹر کی حیثیت سے ان کے عہدے کی موجودہ مدت مارچ 2018میں ختم ہو گی۔
انہوں نے پہلا عوامی عہدہ1992سے1993تک وزیر ِ مملکت اور چیف ایگزیکٹو پاکستان سرمایہ کاری بورڈ (PIBکی حیثیت سے سنبھالا۔ وہ1997سے1999تک وفاقی وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری بھی رہے ہیں وہ دو مرتبہ (1998)سے1999تک اور پھر2008میں خزانہ، اقتصادی امور ریونیو اور شماریات کے وفاقی وزیر بھی رہے ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار قومی مالیاتی ایوارڈ(این ایف سی میں حکومت ِ پنجاب کی کمیٹی کے کنونیر بھی رہے ہیں) وہ آئینی اصلاحات کی اُس پارلیمیانی کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں جس نے آئین میں اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں ترامیم کو حتمی شکل دی تھی۔ وہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعنیاتی کے لیے قائم پارلیما نی کمیٹی اور قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے بھی رکن رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے سینٹ میں صنعتوں اور پیداوار کی مجلس قائمہ کے چیئرمین کے اہم عہدے پر بھی کام کیا ہے اور اِس کے علاوہ وہ چند مجالس قانہ کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں جن میں خزانہ، ریونیو، اقتصادی اُمور شماریات، منصوبہ بندی و ترقی، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، دفاعی پیداوار، امورخارجہ، امور ِ کشمیر و گلگت بلتستان، نجکاری اور ملازمین بہبودی فنڈ کی مجالس قائمہ شامل ہیں۔ وہ سینٹ کی کمیٹی برائے خزانہ سینٹ ملازمین بہبودی فنڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی او ر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری افئیرز(APS)کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے ہیں۔ ان کی پارلیمانی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے2011میں انہیں (پاکستانی شہریوں کے لیے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ) نشان ِ امتیاز عطا کیا گیا۔
سیاسی محاذ پر ان کی مصروفیات کا سلسلہ بہت لمبا عرصہ پیچھے چلا جاتا ہے۔ وہ 1980ء کے اواخر سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ہیں۔ وہ 2002کے بعد سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے بین الاقوامی امور کے شعبے کے صدر بھی رہے ہیں۔وہ لاہور ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر اورICAPکے نائب صدر اور کونسل ممبر بھی رہ چکے ہیں۔اِس وقت وہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں۔ اِس یونیورسٹی کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان کی اعلی میڈیکل یونیورسٹیوں میں دوسرا درجہ دیا ہے۔
سماجی شعبے میں سینیٹر اسحاق ڈار کے قابل تعریف کردار کو بنیاد ان کا انسان دوست اور مخیرانہ جذبہ ہے اور یہی چیز اس بات کا محرک ہے کہ ان کی سربراہی میں دو خیرانی ادارے ہجویری ٹرسٹ اور ہجویری فاؤنڈیشن چل رہے ہیں۔ پہلا ادارہ ایک سو سے زائد یتیم بچوں کی پناہ گاہ کے طور پر مصروف ہے، اِن بچوں کو رہائش اور تعلیم کی مکمل سہولتیں فراہم کی جار ہی ہیں اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے جارہی ہے۔دوسرا ادارہ جن سرگرمیوں میں بھر پور طریقے سے حصہ لے رہا ہے ان میں نادار جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا انتظام ضرورت مند طلباء کی مطابقت کے ذریعے امداد، ڈائلیس اور دوسرے علاقوں کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے میریضوں کو طبی معاونات کی فراہم شامل ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ2005 میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے متاثرین اور سال2010اور2011میں ملک میں آنے والے سیلابوں کے باعث بے گھر ہو جانے والے افراد کی انفرادی طور پر مدد کرنے والے سب سے بڑے ڈونر ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار مارچ 2012سے4جون2013تک سینٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف رہے ہیں۔ انہوں نے 7جون2013کو وزیر برائے خزانہ، مال اقتصادی امور شماریات اور نجکاری کا عہدہ سنبھالا۔تعلیمی پس منظر: