نجکاری دراصل نُمو میں اضافے اور غلط رکاوٹیں دور کر کے ڈھانچہ جاتی کمزور یاں دور کرنے اور حقیقت کو مقابلے کے لیے کھولنے کی خاطر اقتصادی اصلاحات کی پالیسی کا ایک اہم ٹول ہے۔ نجکاری پروگرام حکومت کے اقتصادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت پابندیاں ہٹا کر اور اچھے نظم ونسق کے ذریعے پاکستان کی نمو اور پیداواریت میں اِس طرح اضافہ کرنا ہے کہ نجی شعبے کا کردار بڑھانے کی یہ ایک مربوط حکمت ِعملی ہے جس کا مقصد سرکاری املاک کی نجی شعبے کو مخص منتقلی ہی نہیں ہے بلکہ پابندیوں کے خاتمے کے کردار ، بہتر نظم و نسق اور مقابلے کی فضا کے درمیان روابط کو برؤے کار لا کر ایسی فضا ہموار کرنا ہے جس سے نجی شعبہ مال اور خدمات کی ستعدی کے ساتھ فراہمی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہو۔

نجکاری کا عمل اپنی پیچیدگی اور معاملات کی وسعت کے حوالے سے ایک مشکل کام ہے اور معاشی سرگرمی کے تمام پہلوؤں اور اقتصادی پالیسی سازی کے ساتھ اِ س کا تعلق بنتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پالیسی اورطریقِ عمل کے حوالے سے پاکستان میں تسلسل موجود ہے اور ساتھ ہی نجکاری مخالفت قوتوں کے خلاِف ، جدوجہد بھی جاری ہے اس طرح اِس وقت زیادہ ساز گار اور آسان فضا موجود ہے۔ ہمارا مطلمعِ نظر اِس وقت ملک میں اصلاحات کے کامیاب عمل کو مستحکم کرنا اور سرمایہ کاری کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔

نجکاری کمیشن نجکاری کے عمل کو زیادہ شراکت دارانہ بنانا چاہتا ہے اور اِس مقصد کے لیے چھوٹی اور نئی کمپنیوں کے حصص) اور بڑی کمپینوں کے حصص کی سرمائے کی منڈی میں فروخت کے ذریعے عوام کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ وہ اِس عمل کو اپنا سمجھیں ، عوام میں نجکاری پروگرام کے احساس ِمملکت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سرمائے کی منڈی کو وسیع ، گہرا اور مستحکم کیا جارہاہے اور سرکاری شعبے کے بہت سے کاروباری اداروں میں شراکت انتظام(کارپوریٹ گورننس) کو متعارف کرایا جار ہا ہے؟ اِس طرح تعمیر نوِ کے عمل میں تیزی آئے گی اور یہ یونٹ فروخت کے قابل ہو جائیں گے صنعتی اداروں کی تعمیر نوِ اور بحالی:

نجکاری کمیشن مختلف صنعتی اداروں کی تعمیرنوِ اور بحالی اور غیر منافع بخش اور بیمارصنعتی اداروں کی تحلیل (لیکوڈیشن) میں بھی معاونت کر رہا ہے تاکہ نقصانات کو کم کیا جاسکے اور سرکاری شعبے سے مالیاتی اخراج کو روکا جا سکے ۔ اِسی طرح جن اداروں سے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ان کی نجکاری نہیں کی جا سکتی انہیں وقتاًفوقتاًنجکاری پروگرام سے خارج کر دیا جاتا ہے ۔

توقع یہ ہے کہ نجکاری کا عمل مستقبل میں بھی زیادہ سے زیادہ بچتوں کو کاروباری شعبے میں لانے ، نجکاری شدہ اثاثوں کی ملکیت کو توسیع دینے اور اعانتوں (سبسڈیز) کا بوجھ کم کرنے کے ذریعے اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کرنے میں اپنااہم کردار جاری رکھے گا ۔ تجارتی سرگرمیوں میں حکومت کی براہِ راست شراکت کو تیزی کے ساتھ کم کرنے کی ضرورت ہے اِس سلسلے میں حرکت کو جو وسیع تر شعبوں کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ پہلا یہ کہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مستحکم انتظام اور ماحول قائم کیا جاتے لیکن اِس کے ساتھ ہی، توانائی ٹیلی مواصلاات تیل و گیس اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں نگرانی کے ڈھانچے کے ذریعے مفادِ عامہ کا تحفظ کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے تیزی سے بڑھتے ہوئے معاشرے کی بلاِ رکاوٹ اقتصادی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی اور دیگر تقاضوں کا مناسب ڈھانچہ قائم کرنے میں معاونت کی جائے۔

مواقع :
نجکاری کے موجودہ پروگرام میں مالیات و بینکاری ، تیل و گیس ، توانائی اور دوسرے شعبوں میں ترسیلات زر بھی شامل ہیں۔ حکومت اپنی توانائی کی تما م ابتدائی اور تقسیم کا ر کمپینوں کی نجکاری کے لیے پرعزم ہے ۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے اور تقسیم کار کمپینوں کو فروخت کے مرحلے تک لانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔ تم کے چل کر توانائی کے لیے مسابقانہ مارکیٹ کا بھی سوچا جائے گا ۔ قومی فضائی کمپنیاں پی آئی اے اور پاکستان ریلوے جیسے بعض شعبوں کے متعلق حرکت کی حکمت عملی یہ ہے کہ اِن کمپنیوں کی نجکاری پر غور کرنے سے پہلے ان کی حالت بہتر بنائی جائے ۔ اسی طرح کسی مرحلے پر ہوائی اڈوں، بندرگاہوں ، بیمہ کمپینوں اور جہازرانی کی نجکاری کا بھی سوچا جائے گا۔ ایسے بہت سے دوسرے شعبے بھی موجود ہیں جہاں نجکاری کے بہت سے مواقع ہیں۔ اِن میں شاہریں اور فراہمی و نکاسی آب وغیرہ شامل ہیں۔مختصر یہ کہ امکانی نجکاری کا ایجنڈا بہت بڑا ہے اور نجکاری میں پیش رفت کو یقینی بنانے کی کنجی موجودہ ایجنڈے پر کامیاب عمل درآمد کرنا ہے تاکہ سرکاری مالیاں ت کو مستحکم کیا جا سکے او رپاکستانی مال اور خدمات کے حجم اور معیار میں اضافہ کیا جا سکے۔