ہمارا مستقبل کا دیرپا تصور ایک ایسی حکومت ہے جو اچھی حکمرانی اور باقاعدگی کے عمل پرتوجہ مرکوز رکھتے ہوئے نجی شعبے کو سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات کی فراہمی کی خاطر ساز گار حالات پیدا کرے تاکہ نجی شعبہ متعلقہ انداز میں مال اور خدمات فراہم کر سکے۔ اِس طرح روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہ کاروباری ترقی کے لیے ناگریز ہے۔ یہ مواقع پیدا ہونے کے نتیجے میں بالآخر بے روز گاری کم ہو گی اور غربت کا خاتمہ ہوگا ۔ مختصراً ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار سے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ نجکاری کمیشن کاروبار کو درست ہاتھوں میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے تاکہ حکومت آزادانہ اور پُرامن وامان کو یقینی بنانے جیسے اُمور پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکے اور اس بات کو یقینی بنا سکے کہ سرمایہ کاری کے لیے ساز گار حالات فراہم کیے جارہے ہیں اور صارفین اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جار ہا ہے۔

نجی سرمایہ کاری کی خاطر ساز گار ماحول بنانے کے لیے مستحکم صورتحال کلاں معاشیات اور امن و امان لازمی چیزیں ہیں ۔ اِس کے ساتھ ساتھ صارفی کے تحفظ اور صارفین اور سرمایہ کاروں کو قیمتوں کی درست معلومات کی فراہمی کے لیے مقابلے کی فضا، معیشت میں حکومتی قواعد و ضوابط اور پابندیوں کو کم کرنا اور غیر ضروری ضابطے ختم کرنا بھی ضروری ہے تاہم بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولتوں (یوٹیلٹی خدمات) کے شعبوں میں شاید مقابلے کی فضا قابل عمل نہ ہو ۔ ایسی صورت میں صارفین اور سرمایہ کاروں کی ضروریات میں توازن رکھنے کے لیے ایک منصفانہ اور جامع طور پر باقاعدگی سے نگرانی کرنے والے ڈھانچے کا موجود ہونا انتہائی ناگریز ہے، اِس نگران ڈھانچے کو کارکردگی ، حفاظت ، صحت اور ماحولیات کے لیے معیارات مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ اِس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا مال اور خدمات کے نرخ ان کی پیداواری لاگت کے عکاس ہوں اور سرمایہ کاروں کو مالیاتی نقصان کا خطرہ مول لینے کا جائزہ معاوضہ مل سکے۔ صارفین کے طویل مدتی مفادات کے تحفظ کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ سرمایہ کاروں اور صارفین کی ضروریات میں توازن برقرار رکھا جائے ۔

نجکاری کے پروگرام میں بینکاری ، مالیات، تیل و گیس ٹیلی مواصلات ، توانائی صنعت اور کئی دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملکیتی ادارے شامل ہیں لیکن نجکاری کا ایجنڈا اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ مثال کے طور پر کے ای ایس سی توانائی کے شعبے کا پہلا سرکاری ادارہ تھا جس کی نجکاری کی گئی اور اُس کے بعد کیپکو کی نجکاری ہوئی، اِسی طرح حکومت تمام پاور کمپنیوں کی نجکاری کے لیے پُرعزم ہے۔ حکومت اِس بات کے لیے کوشاں ہے کہ بعض دوسرے بڑے اداروں مثلاً پی آئی اے، پاکستان سٹیل ملز اور پاکستان ریلویز کی نجکاری پر غور سے پہلے ان کی حالت کو بہتر بنائے۔ بعض دوسرے شعبوں کی نجکاری کے لیے سرکاری سطح پر شاید یہی غور ہوا ہو لیکن اِن شعبوں میں بھی نجکاری کے بہت سے امکانات موجود ہیں‘ مثال کے طور پر وفاقی حکومت کے ملکیتی وسیع اراضی کی نجکاری کی جا سکتی ہے ۔ کئی ممالک میں ڈاکخانہ کے محکمے کی کامیابی سے نجکاری کی گئی ہے، ہم بھی اِس کی نجکاری پر غور کر سکتے ہیں ۔ زیرِ زمین اور بالائی آبی وسائل کی نجکاری بھی اِس طرح ہو سکتی ہے۔ اِن آبی وسائل کے اِستعمال کنندگان کے حقوق کو تحفظ حاصل رہے گا، اسی طرح آبپائشی کا ڈھانچہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظام لاطینی امریکہ کے ممالک اور آسٹریلیاں میں بہتر طریقے سے چل رہا ہے۔

لاطینی امریکہ کے بعض ممالک میں سڑکوں، پُلوں اور آبی کمپنیوں کی بھی کامیابی کے ساتھ نجکاری کی گئی ہے اور تعلیم اور صحت کی خدمات کی نجکاری کی بھی اِس طرح سے کی جارہی ہے کہ نجی شعبہ ایسے اداروں میں پیسہ لگا کر انہیں چلاتے بچاتے بجائے اس کے وہ اِن میں مکمل سرمایہ کاری کرے اور انہیں چلاتے۔ نجی سرمایہ کار ، غیر سرکاری تنظیمیں یا کمیونٹی گروپس خود یہ خدمات فراہم کریں گے۔ بین الاقوامی تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرکاری محکموں کی طرف سے سماجی خدمات کی فراہمی کے پیچھے میں بالخصوص غریبوں کو کوئی مدد نہیں ملتی، غریب لوگوں کی یا تو اِن سماجی خدمات کے دائرے سے ہی باہر رکھا جاتا ہے یا ان خدمات کا معیار اس قدر ناقص ہوتا ہے کہ وہ غریبوں کے لیے فائدہ مند نہیں رہتا۔ واؤچرسکیموں اور بنیادی سہولتوں کے امدادی نرخ (لائف لائن ٹیرف) کا طریقہ ایسے راستے ہیں جن کے ذریعے غریبوں کو بھی ان خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے جن کی نجکاری کر دی گئی ہو۔ ایسے اقدامات پاکستان میں بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں-
مختصراً یہ کہ نجکاری کا امکانی ایجنڈا بہت وسیع ہے اور موجودہ ایجنڈے پر کامیاب عمل درآمد کے ذریعے ہی نجکاری کے عمل میں مزید پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے تاکہ سرکاری مالیات مستحکم ہو اور پاکستان کے مال اور خدمات کے حجم اور معیار میں اضافہ ہو۔