کابینہ کمیٹی برائے نجکاری(CCOP)
اعلیٰ سطح پر غور و فکر کو یقینی بنانے اور حکومت کے اعلیٰ سطح کے اقتصادی منتظمین کے اجتماعی شعور سے مستفید ہونے کے لیے 1991میں کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری قائم کی گئی تاکہ نجکاری سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکے۔ اِس کمیٹی کی حوالہ کی شرائط درج ذیل ہیں:
1۔    حکومت/کابینہ سے منظوری کے لیے نجکاری پالیسی مرتب کرنا۔
2۔    نجکاری کمیشن کی سفارش پر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کرنے کی منظوری دینا۔     یا
3۔    کمیشن کی سفارش کے بغیر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کرنے کی منظوری دینا۔
4۔    نجکاری کے عمل کے بارے میں بین الوزازتی معاملات پر پالیسی فیصلے کرنا۔
5۔    نجکاری پر پیش رفت کا جائزہ لینا اور اور اِس کی نگرانی کرنا۔
6۔    نجکاری کے عمل یا کسی بھی دیگر معاملے کے بارے میں نجکاری کمیشن کو ہدایت کرنا کہ وہ رپورٹ، معاملات یا اعدادو شمار پیش کرے۔
7۔    دیگر متعلقہ امور کے بارے میں ہدایات جاری کرنا۔
8۔۔    نجکاری، تعمیرِ نو، پابندیاں ہٹانے اورباقاعدگی کے نگران اداروں سے متعلق امور پر پالیسی فیصلے کرنا۔
9۔    نجکاری فنڈکے کھاتے کے بارے میں پالیسی فیصلے کرنا۔
10۔    نجکاری کے لیے پیش کیے جانے والے سرکاری ملکیتی اداروں کی اصولی قسمِت کی منطوری دینا، کامیاب بولیوں کی منظوری دینا۔
11۔    کسی بھی معاملے پر نجکاری کمیشن کی سفارشات پر غور کرنا اور ان کی منظوری دینا۔
12۔    نجکاری کمیشن کو نجکاری سے متعلق کسی بھی قسم کے دیگر اُمور تفویض کرنا۔
(کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی ساخت اس طرح ہو گی)
1۔    چئیرمین:    وفاقی وزیر برائے خزانہ مالیات، اقتصادی امور شماریات و نجکاری
2۔    رکن:    وزیر ِ تجارت اور وزیر ٹیکسٹائل (جب بھی مقرر ہو)
3۔    رکن:    وزیر صنعت و پیداوار
4۔    رکن:    وزیرِ قانون انصاف و انسانی حقوق
5۔    ۔    رکن:    وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل
6۔۔    رکن:    وزیر منصوبہ بندی و ترقیات
7۔۔    رکن:    وزیر برائے بندرگائیں و جہاز رانی
8۔    ۔    رکن:    وزیر برائے نجکاری (جب بھی علیحدہ سے تقرر ہو)
9۔    ۔    رکن:    وزیر پانی و بجلی
(درج ذیل حکام کو تمام معاملات پر اجلاسوں میں خصوصی دعوت پر بلایا جائے گا)
1۔    ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن
2۔    چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ
3۔    چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ
4۔    گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان
5۔    چیئرمین سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان
6۔    سیکرٹری کامرس ڈویژن
7۔    سیکرٹری فنانس ڈویژن
8۔    سیکرٹری صنعت و پیداوار ڈویژن
9۔    سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات ڈویژن
10۔    سیکرٹری پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن
11۔    سیکرٹری بندرگائیں و جہاز رانی ڈویژن
12۔    سیکرٹری نجکاری ڈویژن
13۔    سیکرٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن
14۔    سیکرٹری پانی و بجلی ڈویژن
نوٹ:
٭    کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اپنے اجلاسوں میں ایسے دیگر افسران کو بھی شرکت کی دعوت دے سکتی ہے جن کا وقتاً فوقتاً بُلانا ضروری ہو۔
٭    کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو کابینہ ڈویژن سیکرٹریٹ معاونت فراہم کرے گا۔