نجکاری پاکستان میں اقتصادی اصلاحات کا ایک اہم پالیسی ٹول ہے تاکہ غلط رکاوٹیں دور کر کے اور حقیقت ک مسابقت کے لیے کھو ل کر نمو میں اضافہ کی جا سکے اور ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ نجکاری پروگرام حکومتِ پاکستان کے اقتصادی و ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت پابندیاں ہٹا کر اور اچھے انتظام کے ذریعے پاکستان کی معیشت کی نمو اور پیداواریت میں اس طرح اضافہ کرنا ہے کہ نجی شعبے کو ترقی کے ایک محرک کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ یہ ایک مربوط حکمت عملی ہے جس کا مقصد نجی شعبے کے کردار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو سرکاری اثاثوں کی محض منتقلی کرنا ہی نہیں بلکہ معاملات میں باقاعدگی لانے، بہتر انتظام اور مقابلے کی فضا کے درمیان روابط کو برؤے کار لا کر ایسی فضا پیدا کرنا ہے جس میں نجی شعبہ مال اور خدمات کی مسُتعدی کے ساتھ فراہمی کے لیے سرمایہ کاری کرنے پرراغب ہو سکے۔

پاکستان نے پابندیاں ہٹانے اور کنٹرول ختم کرنے کا اہم پروگرام1960کی دہائی میں اُس وقت شروع کیا جب نہ تو ایسی پالیسیوں کا کوئی رواج تھا اور نہ ہی ترقی پذیر دنیا میں عام تھیں۔ صنعتی سرمایہ کاری پالیسی کے اعلان کے بعدصنعتی شعبے کو جزوی طور پر ضابطوں سے آزاد کر دیا گیا اقتصادی اصلاحات کے آرڈر1972کے اعلان کے بعد حکومت نے دس بنیادی صنعتوں سے تعلق رکھنے والے نجی شعبے کے32اداروں کا انتظام سنبھال لیا۔ اِن بنیادی صنعتوں میں لوہا اور سٹیل، بنیادی دھاتیں، ہیوی انجنئیرنگ، ہیوی الیکڑیکل مشینری، موٹر گاڑیوں کی اسمبلنگ اور مینو فیکچر، ٹریکٹروں کی اسمبلنگ اور مینو فیکچرنگ، بھاری اور بنیادی کیمکلز، پیٹروکیمیکل، سیمنٹ اور تیل گیس اور بجلی سمیت عوام کی بنیادی ضرورت کی اشیاء شامل تھیں۔ ستمبر1973ء میں مزید26نجی صنعتی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا، اِن میں کھانے کا تیل بنانے والے کارخانے، بیمہ کمپنیاں، جہاز راں کمپنیاں اور پیٹرولیم تیار کر نے والی کمپنیاں شامل تھیں۔ 1974ء میں بینکوں کو قومیا لیا گیا۔ بعد ازاں نجی صنعتی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کا عمل تین ہزار آٹا ملوں، چاول چھڑنے والی ملوں اور کپاس دُھننے کی صنعت تک پھیلا دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد چاول اور رُوئی کے اکثر چھوٹے کارخانے اصل مالکان کو واپس کر دیئے گئے اور حکومت نے صرف چاولوں کی بڑی ملیں بدستور اپنے قبضہ میں رکھیں۔ صرف ٹیکسٹائل اور شوگر کیشعبے کو نہیں چھیڑا گیا۔ جلد یا بدہر سرکاری ملکیتی اداروں کے امور میں درج ذیل خصوصیات سامنے آئیں۔
٭    بد انتظامی اور ضرورت سے زیادہ عملے کی بھرتی
٭    غیر مناسب اور مہنگی سرمایہ کاری
٭    خدمات کی ناقص فراہمی اور ناقص معیار
٭    بھاری قرضے اور مالیاتی نقصانات
٭    بدعنوانی کا فروغ

1978ء میں ٹرانسفر آف مینجڈاینڈ اِسٹبلشڈ آرڈر“ کے تحت اداروں کو قومی ملکیت سے نکالنے کی پالیسی متعارف کرائی گئی مگر اِس میں شوگر اور ٹریکٹر کے بعد نث شامل نہیں تھے اور پھر یہ بھی نجی شعبے کو منتقل کر دیے گئے۔ 1985اور1989میں بھی صنعتی اداروں کو قومی ملکیت سے نکالنے کی کوششیں کی گئیں لیکن انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی اِس کے باوجود حکومت1988میں پی آئی اے کے دس فیصد حصص عوام کو فروخت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

حکومت کا یہ عزم تھا اور ہے کہ کاروبار چلانے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اور وہ خود کو اِس عمل سے باہر لا کر نجی شعبے کے لیے جگہ ہموار کرے گی تاکہ وہ ترقی کے عمل میں اپنا اہم کردار ادا کرے اور خوشحال پاکستان کا خواب عملی روپ دھا ر سکے۔ حکومت نے نجکاری کا پروگرام نئے سرے سے شروع کیا اور اٹھارہ ماہ سے بھی کم مدت میں ایک سو اٹھائیس سرکاری ملکیتی اداروں میں سے ایک سو آٹھ اداروں کو نجکاری کے لیے پیش کیا۔ ان میں سے ساتھ اداروں کی نجکاری ہو گئی۔ اِسی طرح حکومت نے 1991میں نجکاری کی سرگرمی کو باقاعدہ ڈھانچہ جاتی شکل دی اور نجکاری کمیشن قائم کیا۔

اِس میں وقتاًفوقتاً انتظامی تبدیلیاں ہوتی رہیں اوراس طرح 1993کے آخر تک ایک کمیشن صنعتی اداروں، بینکوں اور مالیاتی اداروں کی نجکاری کے معاملات کو دیکھ رہا تھا جبکہ ایک اور کمیشن توانائی کے شعبے کی نجکاری پر کام کر رہا تھا اور اس کے ساتھ علیحدہ کمیٹیاں، ٹیلی مواصلات، ٹرانسپورٹ اور جہاز راں کمپنیوں کی نجکاری کی نگرانی کر رہی تھیں۔1993کے اختتام تک اِن تمام سرگرمیوں کو ایک نجکاری کمیشن میں یکجا کر دیا گیا۔

بعد ازاں 2ستمبر2000ء کو نجکاری کمیشن آرڈنینس2000ء جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں نجکاری کمیشن کو ایک خود مختار /نیم خود مختار شراکتی ادارے میں تبدیل کر دیا گیا، اِس عمل سے حکومت کی نجکاری پالیسی پر عمل درآمد کے متعلق کمیشن کا قانونی اختیار مستحکم ہو گیا، لیکن پاکستان 1973ء میں سترھویں ترمیم کے بعد یہ آرڈنینس مزید مستحکم ہو گیا چونکہ اِس کو ایک مستقل قانون کی حیثیت سے منظوری مل گئی اِس آرڈنینس کے تحت کمیشن کور درج ذیل فرائض ادا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے:

1۔    کابینہ کو نجکاری پالیسی کی راہنما ہدایات کے متعلق سفارش کرے گا۔
2۔    کابینہ سے منظوری کے لیے نجکاری کا جامع پروگرام تیار کر ے گا۔
3۔    کابینہ کے منظور کردہ نجکاری پروگرام کی روشنی میں منصوبہ بندی، انتظام عمل درآمد اور کنٹرول کرے گا۔
4۔    نجکاری پروگرام کے تمام پہلوؤں کے متعلق رپورٹ تیار کرکے کابینہ کو پیش کرے گا۔
5۔    نجکاری پروگرام کے متعلق کابینہ کی منظوری کی روشنی میں یا متعلقہ وزارت کی طرف سے قانون سازی کے عمل کا آغاز کرے گا یا اس میں سہولت فراہم کرے گا۔
6۔    کابینہ کے منظور کردہ شعبوں میں نجکاری پر عمل درآمد سے متعلقہ سرگرمیوں بشمول تعمیر نو، پابندیاں ختم کرنے اور بعد از نجکاری کے اُمور میں مجموعی ہدایات فراہم کرے گا۔
7۔    نجکاری، تعمیر نو، پابندیوں کے خاتمے، نگرانی کے معاملات بشمول لائنوں کی منظوری، ٹیرف کے قواعد اور کابینہ کے منظور کرد ہ نجکاری پروگرام سے متعلقہ دوسرے معاملات کے بارے میں عملی فیصلے کرے گا۔
8۔    کابینہ کے منظور کردہ نجکاری پروگرام کے تحت آنے والے کاروباری معاہدوں پر عمل درآمد کے ضمن میں تمام اہم، انتظامی، مالیاتی او رپالیسی امور کے متعلق احکامات اور ہدایات جار ی کرے گا۔
9۔    نجکاری پروگرام کی سرگرمیو ں کی تشہیر کرے گا۔
10۔    نجکاری پروگرام کے دائرے میں آنے والے ہر صنعتی شعبے سے باقاعدگی کے آزادانہ اور منصفانہ عمل کے لیے کابینہ کو باقاعدہ کی نگرانی کا ڈھانچہ تجویز کرے جس میں باقاعدگی کی نگرانی کرنے والے اداروں کا قیام اور انہیں مستحکم کرنا بھی شامل ہے۔
11۔    باقاعدگی کی نگرانی کرنے والے ہر ادارے کے سربراہ اور رکن کے انتخاب اور تقرر کے لیے وفاقی حکومت کو مشورہ دے گا۔
12۔    وفاقی حکومت کو مشورہ دے گا نجکاری کے عمل میں اجارہ داری یا تخلیق نہ کی جائیں۔
13۔    نجکاری کمیشن مقامی اور غیر ملکی مشیروں، کنسلٹنٹس، تشخیص کنندگان، وکلا اور ایسے ہی دوسرے عملے کا تقرر ایسی شرائط پر کرے گا جو اِس آرڈیننس کے تحت فرائض کی ادائیگی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔
14۔    قبل از نجکاری تعمیرِ نو مزدوروں کی بحالی، علیحدگی کی سکیموں اور کابینہ کے منظور کردہ تمام متعلقہ کے بارے میں فیصلے کرے گا۔ان کی منظور دے گا اور ان پر عمل درآمد کے لیے تمام افعال سرانجام دے گا۔
15۔    نجکاری کے لیے درخواستیں طلب کرے گا اور نجکاری کے عمل میں ہر ممکن حد تک لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائے گا۔
16۔    موصول ہونے والی بولیوں کا مقررہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لے گا اور کابینہ میں زیرِ غور لانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گا۔
17۔    حکومت کو مزدوروں اور افرادی قوت کی بحالی کے ایسے پروگراموں کے متعلق سفارش کرے گا جو نجکاری کے دوران ضروری ہوں اور ایسے ملازمین کی فہرست مرتب کرے گا جنھیں بحالی کی ضرورت ہو۔
18۔    نجکاری ہونے تک سرکاری شعبے کے صنعتی اداروں میں بہتری لانے کے لیے حکومت کو ضروری اقدامت تجویز کرے گا۔
19۔    پابندیاں ہٹانے اور نجکاری کے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد میں معاونت کرے گا اور معیشت کو ہرممکن حد تک پابندیوں سے آزاد کرنے کے متعلق وفاقی حکومت کو مشورہ دے گا۔
20۔    یہ کابینہ کے منظور کردہ نجکاری پروگرام پر عمل درآمد کے ضمن وقتاً فوقتاً پیش آنے والے یا دوسرے تمام متعلقہ اور ضروری فرائض سرانجام دے گا۔