مشکلات اور ان کا حل
ابتدا میں حکومتی پالیسیوں کے بارے میں بہت زیادہ عدم اعتماد موجود تھی اور پاکستان کی معیشت اور پالیسیوں کے تسلسل کے بارے میں امکانی سرمایہ کاروں کے اندر اعتماد نہ ہونے کے برابر تھا۔ بہت زیادہ تنقید اُس وقت ختم ہو گئی جب لوگوں نے پالیسیوں کے تسلسل کا مظاہرہ دیکھا اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو پابندیوں سے آزاد کرنے، غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور نجکاری کے لیے حکومتی حمایت کا مشاہدہ کیا۔
مخصوص مفادات کے حامل طبقات کی طرف سے مزاحمت اور مارکیٹ کے منفی رجحانات پر قابوپانے کے بعد نجکاری کے عمل میں بے انتہا تیزی آتی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود حکومت نجکاری پالیسی کے نفاذ اور شفافیت میں مزید بہتری لانے میں حائل درج ذیل مشکلات پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے:
۔ نجکاری کے عمل کے بارے میں آگہی کا فقدان اور منفی تصورات۔
۔ معاملات کی باقاعدگی سے نگرانی کے عمل میں غیر یقینی، بالخصوص بنیادی شہری سہولتوں اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے بارے میں۔
۔ نجکاری کے عمل کے دوران کامیاب نہ ہونے والی کمپنیوں اور بعض اوقات عوام کی طرف سے کی جانے والی قانونی چارہ جوئی۔
۔ مخصوص مفادات کے حامل طبقات کی طرف سے علانیہ اور خفیہ طور پر مسلسل مخالفت۔
مشکلات کا حل:
۔ بہت سے الگ سرکاری شعبے کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات پر آنے والی پوشیدہ لاگتوں کو اپنی نااہلی کے باعث نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اعانتوں کی شکل میں حکومت پر(اور بالواسطہ عوام پر) عائد ہونے والی لاگت کے بارے میں لوگوں میں بہت کم آگہی پائی جاتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ خدمات پراٹھنے والے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔
۔ مخصوص مفادات کے حامل طبقات کی طرف سے مخالفت اب کافی حد تک ختم ہو چکی ہے لیکن جب بھی کسی سرکاری ادارے کو نجکاری کے ایجنڈے پر لایا جاتا ہے تو وہ طبقات جو اس ادارے کے سرکاری ملکیت میں ہونے کے باعث مفادات حاصل کر رہے ہوتے ہیں وہ اس نجکاری کی مزاحمت کے لیے اپنے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔نجکاری کمیشن ایسی مزاحمتوں کے بارے میں چوکس ہے اور ایسی مزاحمتوں پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔
۔ سودوں سے حاصل ہونے والی رقوم کے بارے میں حقیقت پسندانہ طور پر بات کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جو عناصر نجکاری کی مخالفت کرتے ہیں وہ مجوزہ آمدنی کے بارے میں توقعات کو اس بدنیتی کے ساتھ بڑھاوا دیتے ہیں کہ معاملہ زیادہ متنازع ہو جائے اور نجکاری کا عمل کمزور پڑ جائے۔
۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ وفاقی تحقیقاتی ٹیمیں اپنا کام کھُلے ذہن کے ساتھ انجام دیں تاکہ سرمایہ کاری اور نجکاری کے عمل میں شریک دوسرے افراداور اداروں کی حوصلہ شکنی نہ ہواور فیصلے ٹھوس کاروباری بنیاد پر کیے جائیں۔
۔ سرمائے کی منڈی میں ترسیلات زر کا فروغ تعمیر اور وقت کا انتخاب اس طریقے سے کیا جائے کہ اُس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر سرمائے کی منڈی وسیع، گہری اور مستحکم ہو جائے۔
۔ نجکاری کے حوالے سے1991کے بعد سے مختلف عدالتوں میں بڑی تعداد میں مقدمات دائر کیے گئے۔ ان عدالتوں میں دیوانی اور فلس عدالتیں، لیبر کورٹس، قومی صنعتی تعلقات کمیشن، وفاقی سروسز ٹرینوٹل، وفاقی محتسب اور ہائی کورٹس شامل ہیں۔ نجکاری کمیشن نے ان مقدمات کی پیروی تہذیبی کے ساتھ کی ہے اور عموماً ان مقدمات کے فیصلے نجکاری کمیشن کے حق میں ہوتے ہیں۔ نجکاری کمیشن آرڈینس2000ء میں ایک خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کی روشنی میں ہائی کورٹس نجکاری کے مقدمات میں مخصوص قانونی دائرہ کار(EXCLUSIVE JURISDICTION)پر عمل پیرا ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نجکاری کمیشن اپنے قانونی معاملات کے سلسلے میں مختلف جگہوں(فورمز) پر جا کہ دلائل دینے اور دفاع کرنے کی بجائے اب زیادہ تر اپنے خدمات ہائی کورٹس میں ہی دائر کرنا اور وہیں مقدمات کا دفاع کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ نجکاری سے متعلق مقدمات کی تعداد میں کمی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔1991کے بعد سے نجکاری کمیشن کے خلاف1136مقدمات دائر کیے گئے جن میں سے982مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں۔اور154ابھی تک زیر التواء ہیں۔ مقدمات کی تعداد میں کمی کے باعث نجکاری کا عمل بلاشبہ عمدہ اور تیز ہوا ہے۔
۔ قواعد و ضوابط نجکاری کمیشن کے آرڈینس محبربہ2000کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں۔