اسلام آباد) ۶ فروری ۲۰۱۷ ء(نجکاری کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے ۲۷ جنوری ۲۰۱۷ ء کے ہونے والے گزشتہ اجلاس کے ایجنڈے پر پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق کوئی معاملہ نہیں تھا۔ اس لیے یہ بات غلط ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کا معاملہ اس اجلاس میں پیش کیا گیا اور اس پر غور و غوض کیا گیا۔

نجکاری کمیشن نے یہ وضاحت ’’بزنس ریکارڈ‘‘ میں ۶ جنوری ۲۰۱۷ ء کو شائع ہونے والی خبر کے بارے میں کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے گزشتہ اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کا معاملہ پیش کیا گیا لیکن اس کی مالی ذمہ داریوں کے متعلق ناکافی معلومات کی وجہ سے پیش رفت نہ ہو سکی۔

نجکاری کمیشن اس کے علاوہ یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ نجکاری کمیشن بورڈ کے ۱۷ جنوری ۲۰۱۷ ء کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان اسٹیل کے سودا کاری کے ڈھانچے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر اس ادارے کو پٹے پر دینے کے تیز سالہ مجوزہ منصوبے پر غور کیا جائے *اور یہ تجویز مناسب وقت پر کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پیش کر دی جائے گی۔

نجکاری کمیشن یقین دلاتا ہے کہ وہ پاکستان اسٹیل ملز کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے مکمل طور پر پر عزم ہے تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور اس کے ملازمین کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ مزید برآں نجکاری کمیشن نے ہمیشہ یہ بات یقینی بنائی ہے کہ ہر سوداکاری میں تمام اثاثوں کی مکمل منصفانہ مالیت حاصل ہو۔

* اس مجوزہ منصوبے کے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔