عدالت عظمیٰ نے ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے ناکام بولی دہندہ میسرز کارگل ہولڈنگ لمیٹڈ)سی ایچ ایل(کی طرف سے دائر کی جانے والی نظر ثانی کی درخواست ۲۳، جنوری ۲۰۱۶ ء کو خارج کر دی اور اس سودا کاری میں نجکاری کمیشن کے فیصلوں کو الزامات سے بری کر دیا۔
سی ایچ ایل نے مقدمہ نمبر ۲۰۱۶ / ۳۰۴۲ میں مورخہ ۴، اکتوبر ۲۰۱۶ ء کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ کے روبرو نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ نظر ثانی کی اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ نے قرار دیا کہ اس درخواست میں عدالت کے اقدام کے لیے کوئی جواز فراہم نہیں کیا گیا اور اس طرح نظرثانی کی یہ درخواست خارج کر دی گئی۔

نظرثانی کی درخواست کے اخراج کے متعلق عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے ساتھ ہی نجکاری کمیشن اپنے خلاف ناکام بولی دہندہ کی طرف سے مختلف عدالتوں میں دائر کیے جانے والے تمام مقدمات جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ ان میں سے چار مقدمات عدالت عالیہ، اسلام آباد اور دو مقدمات عدالت عظمیٰ میں دائر کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ نجکاری کمیشن نے ایک چیک کی وصولی نہ ہونے پر سی ایچ ایل کے نمائندے کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

یہ اعادہ کیا جانا ہے کہ نجکاری کمیشن، نجکاری کے ہر سودے کو سرانجام دینے کے لیے قانونی طریقہ کار کی انتہائی جانفشانی اور احتیاط کے ساتھ سختی سے پابندی کر رہا ہے اور یہ بات ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی سودا کاری میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے مختلف فیصلوں میں بھی ثابت ہو گئی ہے۔