اسلام آباد) ۲۱ فروری ۲۰۱۷ ء(نجکاری کمیشن نے ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کیے گئے دعووں کی وضاحت کہا ہے کہ یہ خبر محض ایک رائے ہے جو خلاف واقعہ، غیر مصدقہ اور غلط حقائق پر مبنی ہے۔ ’’خسارہ روکنے میں نجکاری کمیشن کی ناکامی‘‘ کے عنوان سے ۲۰ فروری کو شائع ہونے والی اس خبر کے متعلق نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ اس خبر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن نے موجودہ حکومت کے دور میں قومی خزانے میں ۱۷۲،ارب روپے داخل کیے جن میں ۱.۱، ارب ڈالر کا غیر ملکی زرمبادلہ بھی شامل ہے تاہم خبر یہ سمجھنے میں ناکام رہا ہے کہ سرمائے کی منڈی کی سودا کاری چار سے چھ ماہ کے عرصے میں مکمل ہوتی ہے جبکہ کسی ادارے کے اکثریتی حصص کی فروخت کا عمل مکمل کرنے کے لیے کم از کم دو سال درکار ہوتے ہیں۔ مزید برآں نجکاری کمیشن کو سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کو محض فروخت کرنے ہی کا اختیار حاصل نہیں بلکہ جہاں ضرورت ہو یہ سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کی تعمیرِ نو اور ان کی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

اس خبر میں پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے اور چودہ پاور کمپنیوں)بجلی کی پیداواری کمپنیوں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(کا ذکر کیا گیا ہے جو سب بڑے اور پیچیدہ سرکاری ملکیتی کاروباری ادارے ہیں اور یہ نجکاری کی فہرست میں کافی عرصہ سے شامل ہیں۔ اس بات کا احساس اور ادراک کرنا ضروری ہے کہ نجکاری ایک طویل عمل ہے جس میں متعلقہ سرکاری ملکیتی کاروباری ادارے کے قانونی، مالیاتی، تکنیکی اور انسانی وسائل سے متعلق پہلوؤں کا باریک بینی سے تجزیہ درکار ہوتا ہے۔

موجودہ حکومت میں پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ نجکاری کمیشن کی موجودہ انتظامیہ نے ان سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کے معاملات کے متعلق سنجیدہ لازمی چھان بین شروع کی اور یہ عمل عالمی سطح کے مالیاتی مشیروں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ان تحقیقی معاملات کے نتائج سے متعلقہ وزارتوں اور ان اداروں کی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ہے تاکہ ان اداروں کی تعمیر نو اور ان کی روز مرہ کارکردگی اور مالیاتی حالت بہتر بنانے میں مدد دی جا سکے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جونہی یہ سرکاری ادارے مالیاتی طور پر نمو پذیر ہوں گے تو ان کی فروخت پذیری میں اضافہ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں زیادہ آمدن حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور تب حکومت فیصلہ کرے گی کہ کس مرحلے پر ان اداروں کی نجکاری کر دے۔

نجکاری کمیشن اس حقیقت سے مکمل طور پر باخبر ہے کہ قومی خزانے پر مالیاتی بوجھ کم کرے، پاکستانی عوام کو خدمات کی فراہمی کا معیار بہتر بنانے اور سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کے ملازمین کی فلاح و بہبود بے انتہا اہمیت کی حامل ہے اور نجکاری کمیشن کی طرف سے تمام سوداکاریاں اسی نکتہ نظر کیتحت کی جارہی ہیں۔