چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر کا خصوصی مضمون
دی نیوز، ۲۸ ستمبر ۲۰۱۶
پاکستان کا نجکاری پروگرام حالیہ دنوں میں ایسی خبروں کے باعث موضوع بحث رہا ہے جن میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اس پروگرام کو نہ صرف بڑے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ سرکاری شعبے کے بیمار صنعتی اداروں کی مالی امداد کے باعث سرکاری خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کا موقع بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نجکاری پروگرام بے نتیجہ رہا ہے انہیں اس پروگرام کی اہم کامیابیوں پر از سرنو غور کرنا چاہیے۔
موجودہ حکومت کے دوران نجکاری کمیشن نے ۱۷۳، ارب روپے (۱۰۷ بلین ڈالر) کمائے ہیں جن میں ۱.۱بلین سے زائد کا زر مبادلہ بھی شامل ہے۔ نیشنل پاور کنسٹرکشن کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ (این پی سی سی) کی کامیاب فروخت سے ۲.۵بلین روپے کی آمدن ہوئی اور یہ تمام رقم ۲۵ ملین ڈالرز کے زرمبادلہ کے طور پر حاصل کی گئی۔ اس کی رعایتی قیمت فروخت (سیل پرائس) اس کی مجموعی مالیت (بریک اپ ویلیو) سے ۴۹ فیصد زیادہ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی منظور کردہ کم ترین قابل قبول قیمت (ریزرو پرائس) سے ۲۷ فیصد زیادہ تھی۔ این پی سی سی کو گزشتہ حکومتوں کی چار ناکام کوششوں کے بعد فروخت کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ فروخت سال ۲۰۰۸ء کے بعد سے پہلی مکمل اور بہت بڑی فروخت تھی۔
موجودہ حکومت جب جون۲۰۱۳ء میں اقتدار میں آئی تو گزشتہ حکومتوں کے ماتحت سرکاری شعبے کے صنعتی اداروں میں بدانتظامی کی وجہ سے ان کے خسارے اور عملی نا اہلیاں بڑھ چکی تھیں۔
اکتوبر ۲۰۱۳ء میں تاہم کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے اپنے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کے حصے کے طور پر سرکاری شعبے کے ۶۹ صنعتی اداروں کی نجکاری کے پروگرام کی منظوری دی جس کے بعد نجکاری کمیشن نے تیل و گیس کی کمپنیوں کے حصص اور پہلے سے نجی شعبے کو دیے گئے بینکوں کے بقایا حصص کی سرمائے کی منڈی کے سودوں کے ذریعے فروخت کا عمل شروع کیا۔
یہ بھی موجودہ حکومت کے دور میں ہی ہوا کہ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور توانائی کے شعبے کے اداروں کی سودا کاری کا ڈھانچہ مکمل کیا حالانکہ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز ۱۹۹۷ء سے جبکہ توانائی کے شعبے کے بعض ادارے ۱۹۹۳ء سے نجکاری کی فہرست پر موجود تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پی آئی اے اور توانائی کے شعبے کے اداروں کی سودا کاری کا کام اس اگلی سطح تک پہنچا ہے۔