اسلام آباد(۲۸ ستمبر) نجکاری کمیشن ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ میں سال ۲۰۱۰ء میں رکھوائی گئی اپنی رقم کی واپسی کی ۱۷۰.۶۲۵) ملین روپے کی پہلی قسط حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے اس رقم کا چیک نیب کے صدر دفتر میں نجکاری کمیشن کے سیکریٹری احمد نواز سکھیرا کے حوالے کیا۔
رضا کاروانہ واپسی کی پیشکش کی کل منظور کردہ رقم (۴۰۴.۵) ملین روپے تھی اور نیب ۲۳۳.۳۷۵) ملین روپے کی بقایا رقم بہت جلد وصول کر کے نجکاری کمیشن کو لوٹا دے گا۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن احمد نواز سکھیرا نے اس موقع پر کہا کہ نجکاری کمیشن اپنی کوششوں کے اتنے بڑے نتائج دیکھ کر بے انتہاء خوش ہے لیکن یہ سب کچھ اس معاملے کی پیروی میں نیب کی طرف سے دکھائی جانے والی لگن اور ٹھوس عزم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ نجکاری کمیشن اس معاملے کو حل کرنے، غلط کاروں کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کو یقینی بنانے اور انصاف کرنے میں ذاتی دلچسپی لینے پر چیئرمین نیب اور ان کی ٹیم کا بے حد شکرگزار ہے۔
ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ نے سال ۲۰۱۰ء میں ۵۰۰ ملین روپے کا عوامی سرمایہ ایک سال کے لیے ۱۲.۸۵ فیصد سالانہ کی شرح منافع پر ۳۰۰ ملین اور ۲۰۰ ملین کی دو قسطوں کی صورت میں بالترتیب ۲۶ مئی ۲۰۱۰ء اور ۲۸ جون ۲۰۱۰ء کو حاصل کیا۔
۵۰۰ملین روپے کی یہ سرمایہ کاری نجکاری کمیشن آرڈیننس ۲۰۰۰ء کی دفعات ۱۴، ۱۶، ۱۸، ۱۹ اور ۲۰ کے ساتھ ساتھ اس آرڈیننس اور ٹرسٹ ایکٹ ۱۸۸۲ء کے دیگر متعلقہ احکام، اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی۔
فروری ۲۰۱۱ء میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ میں کی جانے والی یہ سرمایہ کاری مالیات ڈویژن کی ہدایات کے ساتھ ساتھ نجکاری کمیشن آرڈیننس کی دفعہ ۱۴ کے احکام کی بھی خلاف ورزی تھی۔ فروری ۲۰۱۱ء میں ہی ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ سے درخواست کی گئی کہ وہ جمع کرائی گئی یہ رقم جلد واپس کر دے تاہم اس بینک نے نہ صرف رقم کی واپسی سے انکار کر دیا بلکہ رقم کی واپسی کی مقررہ مدت (بالترتیب مئی اور جون ۲۰۱۱) پوری ہونے پر بھی یہ رقم واپس کرنے سے اپنی معذوری ظاہر کر دی۔
نجکاری کمیشن اور ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ ۲۰ نومبر ۲۰۱۱ء کو مالیات ڈویژن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی معاونت سے تصفیے پر مبنی معاہدہ کیا جس کے تحت ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ نے ۵۰۰ ملین روپے کی اصل واجب الادا رقم کی بارہ ماہ کے عرصے میں واپسی کے لیے بعد کی تاریخوں کے آٹھ چیک نجکاری کمیشن کو جمع کرائے جبکہ بقایا واجب الادا رقم پر چودہ فیصد سالانہ کا منافع دینے پر بھی اتفاق کیا۔
یہ تمام چیک پیش کیے جانے پر مسترد ہو گئے اور نجکاری کمیشن ۱۱، نومبر ۲۰۱۲ء کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پاس ضابطہ فوجداری پاکستان، ۱۸۶۰ء کی دفعات ۴۰۹ (مجرمانہ دھوکہ دہی) اور دفعہ ۴۸۹(و) (چیکوں پر ادائیگی نہ ہونا) کے تحت فوجداری مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرانے پر مجبور ہو گیا۔
نجکاری کمیشن کی طرف سے ڈالے جانے والے شدید دباؤ کے نتیجے میں نادہندگان نے لوٹی گئی رقم میں سے صرف ۲۱۰ ملین روپے کی کم رقم کی رضاکارانہ واپسی کے لیے نیب کو درخواست دی انہوں نے واجب الوصول منافع دینے سے بھی انکار کر دیا۔
نجکاری کمیشن یہ معاملہ نیب کے سامنے موثر طور پر اٹھاتا رہا اور موجودہ حقیقی واجب الادا رقم مع منافع کی واپسی پر زور دیا۔ نجکاری کمیشن کی سرتوڑ کوششوں اور نیب کی طرف سے ٹھوس پیروی کے نتیجے میں لوٹی گئی رقم واپس ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ ۲۹۴.۲۷ ملین روپے کی رقم قبل ازیں واپس لے لی گئی تھی اور نجکاری کمیشن اب ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ کو فراہم کردہ ۵۰۰ ملین روپے کی بنیادی رقم پر ۶۹۸.۸۷ ملین روپے کی کل رقم وصول کر لے گا۔