اسلام آباد (۳۱، اکتوبر ۲۰۱۶)
روزنامہ جنگ کی ۱۱، اکتوبر کی اشاعت اور دی نیوز کی ۱۲، اکتوبر کی اشاعت میں اشرف ملخم کی ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں نجکاری کمیشن کے خلاف بعض بے بنیاد اور حقائق کے برعکس دعوے کیے گئے ہیں۔
اس خبر میں خبرنگار نے نجکاری کمیشن پر مختلف سوداکاریوں کے لیے مالیاتی مشیروں کے حصول کی خاطر چالیس ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کا بے بنیاد الزام عائد کیا ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ جن اداروں کی نجکاری کی جانی ہے ان کا انتخاب تنہا نجکاری کمیشن نے کیا اور متعلقہ وزارتوں یا ان اداروں کی انتظامیہ سمیت متعلقہ شراکت داروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا خبر نگار نے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ مالیاتی مشیروں کی خدمات کا حصول اور ان کی طرف سے کیا جانے والا کام عوامی پیسے کا مکمل ضیاع ہے کیونکہ اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اگر مذکورہ خبر نگار نجکاری کمیشن آرڈیننس ۲۰۰۰ء، اور نجکاری کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے دیے گئے قانونی طریقہ کار سے آگاہ ہوتا اور اس نے مالیاتی مشیروں کی طرف سے معاہدوں پر کیے جانے والے عمل درآمد کی چھان بین کر لی ہو تی تو وہ شاید ایسی غلط خبر دینے سے باز رہتا۔
خبرنگار کو اولاً نجکاری کے مجموعی پروگرام کے مقاصد سے آگاہ ہونا چاہیے تھا جو کہ صرف نجکاری تک محدود نہیں، جیسا کہ خبر میں تاثر دیا گیا ہے، بلکہ اس کے مقاصد میں تعمیر نو بھی شامل ہے۔ نجکاری اور تعمیر نو دونوں کو شفاف اور پیشہ وارانہ انداز میں انجام دینے کے لیے ہر ادارے کے مالیاتی، تکنیکی، افرادی قوت اور قانونی پہلوؤں کے متعلق تفصیلی تحقیق درکار ہوتی ہے۔ یہ تحقیقی مطالعے کرانے کے لیے نجکاری آرڈیننس ۲۰۰۰ء، نجکاری کمیشن کو مسابقانہ عمل کے ذریعے مالیاتی مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے اور اس عمل میں سرکاری خریداروں کے ضابطہ کار ادارے (پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی) کے تقاضوں کی پاسداری بھی کی گئی۔
مالیات مشیروں کی طرف سے مقررہ کام کی تکمیل کے بعد مجوزہ سودے کاری کا ڈھانچہ سوداکاری کمیٹی میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کمیٹی شراکت داروں کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرتی ہے جن میں سرکاری و نجی شعبے کے اعلیٰ نمائندے، متعلقہ شعبے کے ضابطہ کار (ریگولیٹرز) اور زیر نجکاری ادارے کی انتظامیہ بھی شامل ہیں۔ اس لیے خبر نگار کا یہ کہنا درست نہیں کہ متعلقہ وزارتوں اور متعلقہ اداروں کی انتظامیہ کو اس عمل میں شریک نہیں کیا گیا حالانکہ وہ سودا کاری کمیٹی کے اہم ارکان میں شامل ہیں۔ یہ سوداکاری کمیٹی ہی ہے جو ڈھانچے پر غور و خوض کرتی ہے اور مختلف آراء اور تجاویز کو بھی زیر غور لاتی ہے اور اس کے بعد ہی حتمی ڈھانچہ نجکاری کمیشن کے بورڈ کو زیر غور لانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد نجکاری بورڈ ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے کسی قسم کی اصلاحات یا تعمیرنو کی ضرورت ہے یا ان کی نجکاری کی اجازت دے دی جائے۔ اگر سودا کاری کا فیصلہ کیا جائے تو تب مالیاتی مشیروں کو سودا کاری کے ڈھانچے کے لیے مختلف راستے پیش کرنے کے لیے کہا جانا ہے۔ پھر نجکاری کمیشن کے بورڈ کی منظور کردہ سفارشات پر کابینہ کمیٹی برائے نجکاری غور کرتی ہے جو ان سفارشات کو تسلیم، مسترد یا تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ امر بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں معیشت سے متعلقہ وزارتیں، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین لیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور چیئر مین سرمایہ کاری بورڈ شامل ہیں اور وہی سودا کاری پر حتمی فیصلہ ساز ہیں۔
خبر نگار کے اس الزام سے کہ مالیاتی مشیروں کا کام پیسے کا ضیاع ہے، لگتا ہے کہ خبر نگار مطلوبہ احتیاط کے بارے میں بنائی جانے والی رپورٹوں کی وسعت اور مقاصد سے آگاہ نہیں ہے۔ مطلوبہ کام کے متعلق یہ رپورٹس اعداد و شمار اور صورتحال کے تجربے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ یہی رپورٹیں تمام شراکت داروں کو بہتر فیصلہ سازی کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں ان رپورٹوں میں شامل نتائج اور تجزیے ہر ادارے کے حقیقی مسائل اور معاملات کے متعلق آگاہی کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور تعمیرِنو جیسے اصلاحی اقدامات اٹھانے میں حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ ایسے اقدامات قابل قدر عمل مستعدی اور خزانے پر مالیاتی بوجھ میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ نجکاری کمیشن اس بات پر مزید زور دے گا کہ مطلوبہ احتیاط کے اس عمل کے دوران تمام پہلوؤں کو زیر غور لایا جائے۔ اس میں سیاسی ماحول بھی شامل ہے جس کا مرکوز مزدور تنظیمیں ہوتی ہیں لیکن بالخصوص ان اداروں کے ملازمین کی فلاح و بہبود ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ عجب لگتا ہے کہ خبر نگار نے اتنے بھونڈے انداز میں لکھ دیا کہ نجکاری کمیشن نے پروگرام کو کسی تیاری اور متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت کے بغیر سرانجام دیا ہے حالانکہ نجکاری کمیشن آرڈیننس میں فیصلہ سازی کا مذکورہ بالا واضح اور وسیع البنیاد لائحہ عمل بتایا گیا ہے اور نجکاری کمیشن نے اس پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اور اس طرح ’’تیاری‘‘ اور ’’فیصلہ سازی‘‘ کے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ خبر نگار نے مالیاتی مشیروں کی خدمات کے لیے ادائیگیوں کے حوالے سے جو مالیاتی اعداد و شمار بیان کیے ہیں وہ مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط ہیں۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن مالیاتی مشیروں کی خدمات پر اب تک چالیس ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچیس ملین ڈالر کی معاہدے پر مبنی ایک مالی ذمہ داری کے تحت نجکاری کمیشن نے ابھی تک صرف اڈھائی ملین ڈالر کی رقم ادا کی ہے۔ جو وعدہ کردہ رقم کا صرف دس فیصد ہے۔ اصل ادائیگیاں سترہ سودوں میں سے ہر سودے کا سنگ میل عبور کرنے کے ساتھ ساتھ کی جائیں گی۔ ان سودوں میں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور توانائی کے پندرہ ادارے شامل ہیں۔ اگر بالفرض کوئی سودا کاری کسی بھی وجہ سے روک دی جائے یا تاخیر کا شکار ہو جائے تو ادائیگیاں صرف حاصل کردہ منازل تک کے لیے کی جائیں گی۔ دریں اثناء مالیاتی مشیروں کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے تفصیلی جائزے اور چھان بین کے لیے قومی احتساب بیورو کو پیش کر دیے گیے ہیں۔
یہ وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ کونسے ادارے کی نجکاری کی جائے۔ نجکاری کے لیے اداروں کا انتخاب کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کرتی ہیاور پھر یہ کابینہ کمیٹی ہی یہ فیصلہ بھی کرتی ہے کہ کن اداروں کو ’’جلد عمل درآمد کے پروگرام‘‘ میں شامل کیا جائے۔
موجودہ حکومت کے جون ۲۰۱۳ء میں اقتدار میں آنے کے بعد کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا پہلا اجلاس اکتوبر ۲۰۱۳ء میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کی بنیاد پر انہتر اداروں کو نجکاری اور تعمیر نو کے لیے منظور کیا گیا اس لیے یہ الزام مکمل طور پر غلط ہے کہ نجکاری کے لیے اداروں کا انتخاب نجکاری کمیشن نے متعلقہ وزارتوں کے مشورے کے بغیر کیا۔
آخر میں یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت مذکورہ اداروں کے تمام حصص فروخت نہیں کر رہی بلکہ حکومت ان اداروں کی حالت میں بہتری لانے کے لیے نجی شعبے کے طویل مدتی سرمایہ کاروں کی متلاشی ہے اور حکومت پاکستان ان میں سے ہر ادارے کے زیادہ تر حصص اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے تاکہ مطلوبہ عوامی مفاد کے مطابق ان کی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ نجکاری کمیشن حکومت کی نجکاری پالیسی پر عمل درآمد کرنے والا محض ایک ادارہ ہے۔
نجکاری کمیشن اپنی تمام ذمہ داریوں میں انتہائی ایمانداری اور شفافیت کو یقینی بنانے اور اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ معیارات کے مطابق پاکستانی عوام کی خدمت کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ اس لیے ہمارے لیے یہ بات اہم ہے کہ نجکاری کمیشن کی طرف سے کیے جانے والے کام کے بارے میں دی جانے والی خبر حقائق پر مبنی ہونی چاہیے، محض ذاتی آراء اور الزامات کی بنیاد پر نہیں، جس کے کوئی دستاویزی ثبوت بھی نہ ہوں۔