اسلام آباد (۲۱، اکتوبر) عدالت عظمیٰ نے نجکاری کمیشن کو ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے سودے کے مقدمے میں الزامات سے بری کر دیا ہے اور اس سودے کے ناکام بولی دہندہ میسرز کارگل ہولڈنگز لمیٹڈ کی طرف سے دائر کردہ اپیل خارج کر دی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے نے ذرائع ابلاغ اور پارلیمانی کمیٹیوں میں اٹھائے جانے والے ان تمام شکوک وشبہات کی نفی کر دی ہے جن کے باعث نجکاری کمیشن کے فیصلوں کے بارے میں غیر منصفانہ قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔
نجکاری کمیشن یہ فیصلہ آنے سے پہلے عدالت عالیہ اسلام آباد سے وہ چار دیگر مقدمات بھی جیت چکا ہے جو میسرز کارگل ہولڈنگز لمیٹڈ نے اس کو جاری ہونے والے اس قبولیت نامے کی منسوخی کے خلاف درج کرائے تھے جو فروخت کی پیشکش کی شرائط کے خلاف ورزی پر منسوخ کر دیا گیا تھا۔ نجکاری کمیشن میسرز کارگل ہولڈنگز کے نمائندوں کے خلاف ایسا چیک جمع کرانے پر جس کی ادائیگی نہیں ہو سکی، فوجداری مقدمہ بھی درج کر دیا ہے۔
نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر نے کہا ہے کہ نجکاری کمیشن سودا کاروں کے اپنے تمام کام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے متعلق اپنے عزم پر ہمیشہ کاربند رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے نے اس امر کی پھر توثیق کر دی ہے کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے سودے کے لیے نجکاری کمیشن کی طرف سے سودا کاریوں کے فیصلوں کا عمل انتہائی ایمانداری کے ساتھ انجام دیا گیا۔ مختلف عدالتی فیصلوں کے ذریعے عدالت عظمیٰ کی سطح تک ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا اور یہ تمام فیصلے نجکاری کمیشن کے حق میں آئے۔ چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ حقائق کے برخلاف معلومات کی بنیاد پر غیر ضروری شبہات پیدا کیے گئے اور یہ بات نجکاری کے سودوں میں اپنائے جانے والے قانونی عمل سے آگاہی کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔